خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 540 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 540

خطابات شوری جلد اوّل ۵۴۰ مجلس مشاورت ۱۹۳۳ء اپنی جماعت۔سے مشورہ لے اور کثرت رائے کے مطابق فیصلہ کرنے کی کوشش کرے لیکن اگر وہ کثرتِ رائے کے خلاف رائے رکھتا ہو تو اپنے فیصلہ کو نافذ کر دے۔اگر جماعت اس کی رائے سے متفق نہ ہو تو تفصیلی حالات مرکز کو لکھے اور بتائے کہ کن حالات میں اس نے کثرت رائے کے خلاف فیصلہ کیا ہے۔پس جب کوئی جماعت امیر کی رائے کے ساتھ متفق ہونے کی بجائے مصر ہو کہ کثرت آراء کے فیصلہ کو قائم رکھا جائے تو امیر کو حق ہے کہ اپنا فیصلہ نافذ کر دے لیکن پندرہ دن کے اندر اندر مرکز کو اطلاع دے تا یہ معلوم ہو سکے کہ وہ زبردستی سے تو کام نہیں لے رہا اور جو فیصلہ اس نے کیا ہے وہ سلسلہ کے مفاد کے لحاظ سے کیا ہے۔پس مقامی امیر کا فیصلہ جہاں صوبہ کے امیر کے فیصلہ سے ٹکرائے گا وہاں مقامی امیر کو اپنا فیصلہ رد کرنا ہوگا اور صوبہ کے امیر کے ماتحت کام کرنا ہوگا۔یہ ان کے آپس کے تعلقات ہوں گے جب تک مرکز کا فیصلہ یا صوبہ کی انجمن کا فیصلہ کسی مقامی امیر کے خلاف نہیں ہوگا وہ اپنا فیصلہ دے سکتا ہے لیکن اگر صوبہ کا امیر یا مرکز اس فیصلہ کو رڈ کر دیتا ہے تو اس کا فرض ہے کہ اس کی اطاعت کرے۔اس وقت مرکز کا یا صوبہ کے امیر کا فیصلہ نافذ ہوگا اور اس 66 کے ماتحت مقامی امیر کو کام کرنا ہوگا۔اس تشریح کے بعد قاعدہ نمبر ۴ کو منظور کرتا ہوں۔“ رمضان اور جلسہ سالانہ ماہ دسمبر میں رمضان المبارک آنے کی وجہ سے یہ سوال پیدا ہوا کہ جلسہ سالانہ دسمبر کی مقررہ تاریخوں کی بجائے کسی اور وقت پر ملتوی کر دیا جائے تا کہ احباب جماعت کو رمضان میں سفر کی دقت پیش نہ آئے نیز روزہ کی عبادت کا احترام بھی قائم رہے۔اس بارہ میں سب کمیٹی دعوۃ و تبلیغ کی رپورٹ کے بعد چند نمائندگان مشاورت نے اپنی آراء پیش کیں۔بابو ضیاء الحق صاحب نے دریافت کیا کہ : - بیرونی اصحاب کے لئے قادیان آنا سفر ہے یا نہیں ؟ اس بات کا فیصلہ ہو جانا چا۔حضور نے فرمایا : - " حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قادیان کے قیام کے دوران میں روزہ رکھنے کی اجازت دی ہے۔گویا اس سے یہ بتایا ہے کہ قادیان احمدیوں کا روحانی وطن۔