خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 509 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 509

خطابات شوری جلد اوّل ۵۰۹ مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء لئے تیار ہیں یا نہیں۔اس خرابی کو جس قدر جلد ممکن ہو دُور کر دینا چاہئیے کہ صرف تجویز پاس کر دی جائے۔اگر جماعت کے لوگ یہ کام نہیں کر سکتے تو شرم کو دُور کر کے بتا ئیں کہ نہیں کر سکتے اور اگر کر سکتے ہیں تو کرنے کے ارادہ سے مشورہ دیں۔“ 66 اس پر ۲۲۵ دوستوں نے ایسے کلب جاری کرنے کے حق میں رائے دی۔پھر حضور نے فرمایا ”جن دوستوں کی رائے میں مصلحتا یہ بات مناسب نہ ہو یا قابلِ عمل نہ ہو وہ کھڑے ہو جائیں کوئی صاحب کھڑے نہ ہوئے۔فیصلہ میں یہ تجویز ان الفاظ میں منظور کرتا ہوں کہ اگر ممکن ہو سکے تو پہلے قادیان میں اور اس کے بعد دوسری جگہوں میں رائفل کل میں جاری کی جائیں لیکن جن جگہوں میں رائفل کلبیں جاری نہ کی جاسکیں یا جو لوگ رائفل کلب کے ممبر نہ بن سکیں ان کے لئے ہر جگہ کی جماعتوں میں ایسی کلبوں کا انتظام کیا جائے یا جہاں رائفل کلب موجود ہونے کی صورت میں اس کے ساتھ اس امر کا بھی انتظام کیا جائے کہ خواہ تیر کمان سے خواہ ہوائی بندوق سے خواہ غلیلوں سے جماعت کے افراد جس حد تک زیادہ سے زیادہ ممکن ہو سکے نشانہ بازی کی مشق کریں۔“ ٹیریٹوریل کمپنی اور ریکروٹ دو ٹیریٹوریل کمپنیوں کی منظوری اور ان کے لئے گورداسپور کے علاوہ باقی اضلاع پنجاب کو بھی ریکروٹ مہیا کرنے کا ذمہ دار قرار دیئے جانے کی تجویز تھی۔اسکی بابت حضور نے فرمایا : - یہ تحریک اس قسم کی ہے کہ اس کے لئے رائے لینے کی ضرورت نہیں ہے لیکن اظہارِ خیالات کی ضرورت ہے کیونکہ یہ معلوم ہونا چاہئیے کہ ضلع گورداسپور کے احباب اور اس کے بعد ضلع سیالکوٹ ، جالندھر وغیرہ کے احباب تو اس میں شامل ہوتے ہیں دوسرے اضلاع کے لوگ کیوں بھرتی نہیں ہوتے۔حالانکہ ہندوستانیوں نے بہت زور دے کر ٹیریٹوریل فورس جاری کرائی ہے۔اب جبکہ یہ جاری ہو چکی ہے تو دوسری قو میں اس کی طرف متوجہ ہو رہی ہیں مگر احمدی متوجہ نہیں۔آج سے پہلے میں نے رویا دیکھا تھا کہ اگر ٹیریٹوریل میں اپنے آدمیوں کی دوسری کمپنی بڑھانے کی کوشش نہ کی گئی تو جو کمپنی موجود ہے وہ بھی خطرہ میں