خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 508
خطابات شوری جلد اوّل ۵۰۸ مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء یہ نہیں کر سکتی کہ ہم ان میں سے کوئی طریق بھی اختیار نہیں کر سکتے۔اس طرح نشانہ بازی کی مشق ہو سکتی ہے۔میرے خیال میں اس تجویز کو وسیع کیا جائے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا جماعتیں اس ذمہ داری کو اُٹھانے کے لئے تیار ہیں یا نہیں۔میری رائے یہ ہے جو میں ذاتی طور پر بتا دیتا ہوں۔گو میں یہ نہیں کہتا کہ یہ جنگی فنون کے ماہر کی رائے ہے مگر یہ ضرور کہتا ہوں کہ یہ ایسے شخص کی رائے ہے جسے خدا تعالیٰ نے صحیح طور پر چیزوں کا اندازہ لگانے کا ملکہ دیا ہے۔میری یہ رائے ہے کہ دُنیا کا یہ خیال کہ محض بارود سے کام چلتا ہے غلط ہے۔اس کی ایک وجہ تو عقلی ہے اور وہ یہ کہ کوئی چیز ایسی نہیں جس میں انسان لگا رہے اور اس کے لئے ترقی کے رستے نہ کھلے ہوں۔دوسری وجہ یہ ہے کہ اسلام سے معلوم ہوتا ہے کہ بندوق کی جنگ منع ہے۔بے شک بندوق سے آگ نہیں لگتی۔مگر اس میں آگ ہوتی ہے اور لڑائی میں آگ کے استعمال سے اسلام نے منع کر دیا ہے۔میں جہاں تک سمجھتا ہوں انسانی دماغ اگر اس طرف لگ جائے تو ایسی تجاویز نکل سکتی ہیں کہ بندوق سے بھی سخت سامان نکل آئے مگر اس میں آگ کا دخل نہ ہو مگر ابھی تک ادھر توجہ نہیں کی گئی ورنہ ایسی قسم کی غلیلیں اور ایسے تیرا ایجاد کئے جا سکتے ہیں جو زیادہ سخت اور زیادہ اثر کرنے والے ہوں۔اس وقت مشورہ اس بات کے متعلق ہونا چاہئیے کہ آیا جماعت اس کے لئے تیار ہے کہ ایسے کلب بنائے جن میں تیر، غلیلیں اور بندوق وغیرہ چلانے کی مشق کی جائے اور کسی قسم کا نشانہ سیکھا جائے یا نہیں۔اصل غرض یہی ہے کہ اس بارے میں جماعت کی تنظیم ہو جائے تا کہ اگر ملک میں کسی جگہ فساد ہو جائے اور خود گورنمنٹ اس بات کی محتاج ہو جائے کہ لوگ اس کی مدد کریں تو اس وقت مدد کی جا سکے۔رولٹ ایکٹ کے وقت ملک میں ایسی آگ بھڑک اُٹھی تھی کہ گویا حکومت ہی ایک لمحہ کے لئے مٹ گئی تھی اور حکومت محتاج تھی کہ لوگ اس کی امداد کے لئے آئیں لیکن اگر لوگ مدد دینے کے قابل ہی نہ ہوں تو وہ کیا کر سکتے ہیں۔میں جماعت سے یہ مشورہ لینا چاہتا ہوں کہ ایسی کلمہیں جن میں خواہ تیروکمان سے یا غلیلوں سے یا ہوائی بندوق سے یا رائفل سے نشانہ بازی کی جائے۔جماعتیں بنانے کے