خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 492
خطابات شوریٰ جلد اوّل ۴۹۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء گرلز سکول کی عمارت میں نے اس سال گرلز سکول کے لئے ایک عمارت کا انتظام کیا ہے۔لڑکیوں کی تعلیم ایک نہایت اہم سوال ہے۔جب تک تمام افراد کسی جماعت کے ایک خیال سے متفق نہ ہوں اُس وقت تک اس کے مشورے کامیاب نہیں ہو سکتے۔اگر کوئی یہ سمجھے کہ گاڑی کو ایک بیل ہی کھینچ لے گا تو ایسا نہیں ہو سکتا۔اسی طرح ہم کامیابی کا رستہ اُس وقت تک طے نہیں کر سکتے جب تک عورتوں کا طبقہ بھی ہمارا محمد و معاون نہ ہو۔عام طور پر لوگ یہ خیال کر لیا کرتے ہیں کہ جب ہم طاقتور ہیں تو سب لوگ طاقتور ہوں گے۔ایک لطیفہ ایک لطیفہ مشہور ہے کہ بادشاہ کا ایک حجام تھا۔وزراء بھی اُسی سے حجامتیں کرایا کرتے تھے۔ایک دن ایک وزیر نے خوش ہو کر اسے پانچ سو اشرفی دے دی۔اس کے بعد کسی دن ایک امیر نے اُس سے پوچھا شہر کا کیا حال ہے؟ تو اُس نے کہا لوگ بہت مزے میں ہیں۔روپیہ کی اتنی بہتات ہے کہ کوئی شخص ایسا نہ ہو گا جس کے پاس کم از کم پانسو اشرفی نہ ہو۔اُس کی یہ بات جب پھیلی تو دوسرے امراء بھی مذاق کے طور پر اُس سے یہی پوچھتے اور وہ سب کو یہی جواب دیتا۔آخر تجویز کی گئی کہ اس کی تحصیلی کسی طرح اُڑالی جائے۔چونکہ وہ اُسے ساتھ لئے پھرتا تھا کسی نے اُٹھا کر کہیں چُھپا دی۔چونکہ وہ اس کے متعلق امراء سے کچھ کہہ نہ سکتا تھا اس لئے چُپ ہو گیا۔پھر جو آیا تو اُس سے پوچھا گیا بتاؤ شہر کا کیا حال ہے؟ کہنے لگا حال کیا ہے۔سب لوگ بُھو کے مرتے ہیں ، کسی کے پاس کچھ نہیں۔اُس امیر نے اُسے تھیلی دے دی اور کہا لو اپنی تھیلی اور شہر کو بُھوکا نہ مارو۔تو یہ تباہی و بربادی کا بیج ہوتا ہے کہ سب کو ایک جیسا سمجھ لیا جائے حالانکہ وہ ایسے نہ ہوں۔قرآن نے یہ کہا ہے کہ خود آگے بڑھو اور دوسروں کو آگے بڑھاؤ۔عورتوں کو تعلیم نہ دینے کا نقصان اس بات کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بہت سی قو میں اس لئے تباہ ہو گئیں کہ اُنہوں نے عورتوں میں تعلیم نہ پھیلائی اور ان کی ترقی کا خیال نہ رکھا اور بہت سی قوموں میں تو ایسا بھی ہوا کہ مردوں کے ایک حصہ کو بھی تعلیم حاصل کرنے سے محروم کر دیا گیا۔اسلام نے مرد و عورت دونوں کے لئے تعلیم ضروری قرار دی ہے۔رسول کریم صلی اللہ