خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 491
خطابات شوری جلد اوّل ۴۹۱ مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء خواہ ہمارے جسموں کی آخری بوٹی تک اُڑ جائے وہ کام ہمیں کرنا چاہئے۔جہاں خدا تعالیٰ ایسی حالت میں اپنی قدرت نمائی کرتا اور کامیابی کے سامان پیدا کر دیتا ہے وہاں یہ بات بھی مد نظر رکھتا ہے کہ اُس کے بندے صحیح ایمان اور یقین کے ساتھ بات کریں اور جتنا صحیح اور پختہ ایمان ہو گا اُتنی ہی عظیم الشان کامیابی ہو گی لیکن اگر دل میں کامیابی کے متعلق کسی قسم کا شک و شبہ ہوگا تو کامیابی میں اتنی ہی کمی اور تو قف ہو گا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ہمارے گھر میں ایک دفعہ جو آٹا تھا وہ بہت دیر تک چلا۔آخر جب تول کر دیکھا تو پھر جلد ختم ہو گیا۔پس جتنا یقین اور وثوق ہو گا اُتنی ہی خدا تعالی کی طرف سے مدد اور نصرت آئے گی اور اگر یقین کامل نہیں تو اتنا ہی زیادہ دُنیوی تدابیر پر بھروسہ کرنا پڑے گا۔اگر کامل ایمان ہو تو آج خواہ ۱۰ کروڑ بجٹ قرار دے کر دوست کام کے لئے اُٹھیں خدا تعالیٰ اُسے پورا کر دے گا لیکن چونکہ ہماری جماعت میں کمزور بھی ہیں اس لئے ان کا خیال رکھنا ضروری ہے۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہماری جماعت کے سارے لوگ کامل الایمان نہیں بلکہ کمزور بھی ہیں۔اگر سارے کے سارے اِس مجلس میں یقین کامل کے ساتھ شامل ہوں تو پھر سارا سال ان تجاویز کے پورا کرنے میں لگے رہنا چاہئے جو یہاں پاس کی جاتی ہیں۔مجلس مشاورت میں خدا تعالیٰ سے عہد ہم یہاں خدا تعالیٰ کے ساتھ اقرار کرتے ہیں کہ یہ کام اس سال کریں گے مگر جن لوگوں میں کمزوری ہے وہ اس عہد کو بھول جاتے ہیں اور یہی وہ چیز ہے جو ہمارے فیصلوں میں روک بنتی ہے اور انتہائی قربانی تک جانے میں روک ہے۔احباب کو مشورہ دیتے وقت اس بات کو بھی مد نظر رکھنا چاہئے اور دہی سمونے والی بات کرنی چاہئے۔ایک طرف تو تو گل ہو اور دوسری طرف تدبیر کو بھی ملحوظ رکھا جائے۔تو کل تو اُن کے لحاظ سے جو کامل الایمان ہیں اور تدبیر ان کے لحاظ سے جو کمزور ہیں۔اُمید ہے کہ تمام دوست اخلاص اور تقویٰ سے تمام امور کے متعلق غور کریں گے اور دونوں باتوں کو مد نظر رکھیں گے یعنی ایک طرف تو کل کو اور دوسری طرف تدبیر کو۔