خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 487 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 487

خطابات شوری جلد اوّل ۴۸۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء خیال کیا کہ یہ سلسلہ تباہ ہو جائے گا کیونکہ اُنہوں نے سمجھا کہ سلسلہ کی روح رواں چلا گیا ہے مگر وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ سلسلہ کی روح رواں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نہ تھے بلکہ خدا نے اسے قائم کیا تھا۔اُسی نے اسے قائم رکھا اور اُسی نے حضرت مولوی صاحب کو خلیفہ بنایا۔کچھ لوگ جو پہلے ہی کہتے تھے کہ اس سلسلہ کو مولوی نورالدین صاحب چلا رہے ہیں اُنہوں نے کہا ہم نہ کہتے تھے سب کچھ مولوی نور الدین صاحب کرتے ہیں، ان کے بعد اس سلسلہ کا خاتمہ ہو جائے گا اور جب حضرت خلیفہ اول فوت ہوئے تو سب نے کہا اب فیصلہ ہو جائے گا۔مخالفت کے کچھ اور سامان بھی پیدا ہو گئے یعنی کچھ لوگ جماعت سے علیحدہ ہو کر تفرقہ کرنے لگے مگر خدا تعالیٰ قدرت نمائی کرنا چاہتا تھا۔جہاں سلسلہ کے کاموں کو اپنے ہاتھوں میں رکھنے والے اختلاف میں پڑ گئے وہاں سلسلہ کی باگ اُس نے ایسے شخص کے ہاتھ میں دے دی جس کے متعلق کہتے تھے یہ بچہ ہے اور جو دُنیا کے تجربہ کے لحاظ سے بچہ ہی تھا۔اُس وقت میری عمر ۲۶ سال کی تھی اور میں نے یہ عمر قادیان میں ہی بسر کی تھی۔دُنیا کا مجھے کوئی تجربہ نہ تھا اور نہ ہی سلسلہ کے کاموں کا تجربہ تھا کیونکہ جن کے ہاتھوں میں کام تھا وہ پسند نہ کرتے تھے کہ میں کوئی کام کروں۔خلافت ثانیہ میں جماعت کی ترقی ایسی حالت میں جب یہ کام خدا تعالیٰ نے میرے سپرد کیا تو مخالف کہنے لگے اب یہ سلسلہ تباہ ہو جائے گا اور ان لوگوں میں سے جو جماعت سے علیحدہ ہو گئے تھے ایک نے کہا ہم تو یہاں سے جاتے ہیں عوام الناس احمدیوں نے ایک بچہ کو خلیفہ مقرر کر لیا ہے، دس سال کے بعد دیکھنا ان عمارتوں پر عیسائی قابض ہو جائیں گے اور احمدیت بالکل مٹ جائے گی۔یہ ۱۹۱۴ء کے ابتداء کا واقعہ ہے جس پر ۱۸ سال ختم ہو گئے اور اُنیسواں شروع ہے۔گویا دو دہا کے ختم ہونے والے ہیں لیکن دیکھ لو کون قابض ہے اور آیا سلسلہ تباہ ہو گیا ہے یا خدا تعالیٰ کے فضل سے اس نے اتنی ترقی کی ہے کہ کئی گنے زیادہ جماعت ہو گئی ہے۔جب خدا تعالیٰ نے میرے ہاتھ میں سلسلہ کی باگ دی تو بیرونی ممالک میں کسی جگہ کوئی احمدی جماعت قائم نہ تھی سوائے افغانستان کے مگر اب خدا کے فضل سے مختلف ممالک میں جماعتیں قائم ہیں اور نہ صرف ہندوستانی جو دوسرے ممالک میں گئے ہوئے ہیں وہ سلسلہ احمدیہ میں