خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 486 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 486

خطابات شوری جلد اوّل ۴۸۶ مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء یہ ہے کہ ڈیوک کو غیر ڈیوک سزا نہیں دے سکتا۔زار نے کہا میں اسے کونٹ بناتا ہوں اور حکم دیتا ہوں کہ کونٹ ٹالسٹائے اسے مارو۔کوئی سلسلہ احمدیہ کو مٹا نہیں سکتا تو تفرقہ بہت بری چیز ہے، میں اسے تسلیم کرتا ہوں لیکن ہم ان سے کہیں گے تم سے بہت بڑی ہستی ہے جو کہتی ہے کہ اس طرح کرو، اس لئے ہم کرتے ہیں۔اس طرح ہم پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے لیکن اگر ہم ایسا کام کرنے والے ہوں جس پر خدا تعالیٰ نے ہمیں کھڑا نہیں کیا تو پھر دنیا میں سب سے بڑے غدار ہم ہوں گے۔لیکن اگر خدا تعالیٰ نے کھڑا کیا ہے تو پھر ہمیں کسی بات کی فکر نہیں ہو سکتی اور کوئی اس سلسلہ کو مٹا نہیں سکتا۔ہمیں دوسروں کی طاقت اور اپنی کمزوری کو دیکھ کر نہیں ڈرنا چاہئے۔بیشک ہم کمزور ہیں اور ہمارے مخالف خدا کے فرشتے ہماری مدد کر رہے ہیں طاقتور لیکن خدا تعالیٰ کے فرشتے آئیں گے اور ہماری مدد کریں گے اور اس وقت تک کرتے چلے آرہے ہیں۔کون آج سے چند سال پہلے یہ کہہ سکتا تھا کہ ہم اس طرح جمع ہوں گے اور اہم سے اہم امور کے متعلق مشورہ کیا کریں گے۔ابھی کوئی زیادہ عرصہ نہیں گزرا صرف ۲۸ سال ہی ہوئے ہیں کہ ۱۸۹۳ء میں جو جلسہ ہوا اُس میں چھوٹے بڑے حتی کہ بچے بھی ملا کر ۳۱۳ کی تعداد ہوئی تھی مگر آج جماعتوں کے صرف نمائندوں کی تعداد ۳۲۰ ہے اور جو دوسرے احباب آئے ہیں ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔جمعہ کی نماز میں ہی اتنے لوگ شریک ہوئے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی کے آخری سالانہ جلسہ میں اتنے نہیں تھے۔ایک وہ زمانہ تھا جبکہ قادیان سے باہر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کوئی نہ جانتا تھا لیکن آج دنیا کا کوئی بر اعظم نہیں جہاں کے افراد نہ جانتے ہوں اور ہر ملک میں احمدی موجود ہیں۔آخر یہ سب کچھ کس ذریعہ اور کس طاقت سے ہوگا ؟ سوائے اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت کے کیا چیز ہے جس نے اس تھوڑے سے عرصہ میں سلسلہ کو اکناف میں پھیلا دیا۔الصلوة حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد پھر حضرت مسیح موعود علیہا والسلام کی وفات پر لوگوں نے