خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 466 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 466

خطابات شوری جلد اوّل ۴۶۶ ت ۱۹۳۱ء میں خود بھی اس میں شریک ہو گیا تھا۔چودھری ظفر اللہ خان صاحب بھی تھے۔تو ایسی سکیم ہو جس کے ماتحت ایک مقررہ عرصہ مثلاً دس سال تک حصہ داروں کے مکان بنانے کے لئے سرمایہ مہیا کیا جائے۔جس کے نام کا قرعہ پہلے مہینہ میں نکل آئے اُس کا مکان پہلے مہینہ میں ہی بننا شروع ہو جائے اور جوں جوں قرعے نکلتے رہیں، مکان بنتے جائیں۔اس طرح قادیان کی ترقی بھی ہو سکتی ہے جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات میں ذکر ہے اور احباب کے آرام اور سہولت کا سامان بھی ہوسکتا ہے۔ایک تو یہ سکیم میں نے سوچی ہے۔اس کے علاوہ ایک اور سکیم سوچ رہا ہوں مگر وہ ابھی بیان نہیں کرتا۔اس سکیم کے متعلق بعض مجبوریوں کی وجہ سے میں نے اپنی رائے پہلے ظاہر کر دی ہے مگر ہوسکتا ہے کہ کام کا تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے اس سکیم میں کوئی نقص رہ گیا ہو۔اس لئے احباب اپنی رائے آزادی سے ظاہر کریں۔اس سکیم کے ماتحت جو آمدنی ہو اُس کے خرچ کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ قادیان کے ارد گرد کے دیہات سے زمین خرید لی جائے۔ارد گر دسکھوں کے گاؤں ہیں اس وجہ سے ہماری حفاظت خطرہ میں رہتی ہے۔بعض حکام بھی ان کو اُکساتے رہتے ہیں۔چونکہ جماعت کی ترقی کی وجہ سے ارد گرد کے سکھوں کی حالت ایسی مضبوط نہیں جیسی اور جگہ ہے اس لئے وہ اپنی زمینیں بیچنا چاہتے ہیں۔اگر ہم ان کی زمینیں خرید لیں تو یا تو وہ مزارع ہو کر رہیں گے یا پھر احمدی کا شتکار رکھ لیں گے۔غرض اس سکیم کے کئی فوائد ہیں اس لئے میں پسند کرتا ہوں کہ جلد سے جلد کام شروع ہو۔اگر کچھ احباب ایک یا دو روپیہ ماہوار کے حساب سے بھی اس میں حصہ لیں تو بھی بہت کافی روپیہ جمع ہو سکتا ہے۔غرض بہت تھوڑی سی جماعت سے ایک کافی رقم جمع ہوسکتی ہے۔جس سے نہ صرف جماعت کی اقتصادی حالت مضبوط ہو گی بلکہ دشمنوں کی طاقت بھی ٹوٹ سکتی ہے۔پس میں اُمید کرتا ہوں کہ اگر تفصیلات میں کامیاب ہو جائیں تو اکثر دوست نه صرف خود اسے منظور کریں گے بلکہ اپنے علاقہ میں بھی کامیاب بنانے کی کوشش 66 کریں گے۔“ سکیم کی انتظامی ذمہ واری اس موقع پر ناظر صاحب امور عامہ نے سکیم کی کسی قدر تفصیل بیان کی۔اس کے متعلق حضرت خلیفہ اسیح الثانی