خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 448
خطابات شوری جلد اوّل ۴۴۸ رت ۱۹۳۱ء ہوئی کہ بہت سا سرمایہ جمع کر لیا گیا جو استعمال نہ کیا جا سکا۔یہاں ایسی دوکان چل سکتی ہے جس کا سرمایہ سال میں دو تین دفعہ چکر کھا لے۔سٹور میں ۸۰ ہزار کا سرمایہ لگایا گیا جس کے لئے ضروری تھا کہ کم از کم الاکھ روپے کی سالانہ بکری ہوتی مگر یہ ہو نہیں سکتی تھی اس غلطی کی وجہ سے ناکامی ہوئی۔دوسرا نقص یہ ہوا کہ جنہوں نے روپیہ دیا اُنہوں نے اپنا سارے کا سارا روپیہ دے دیا۔بعض لوگوں کی حالت کو دیکھ کر رونا آتا۔اُنہوں نے اپنا سارا جمع کردہ روپیہ لگا دیا اور پھر انہیں روپیہ ملنا مشکل ہو گیا اور اس طرح اُن کی نہایت نازک حالت ہوگئی۔اگر کام ایسی طرز پر شروع کیا جائے کہ تھوڑا سرمایہ ہو جو ساری جماعت پر پھیلا کر جمع کیا جائے۔مثلاً دس دس روپیہ کا حصہ رکھا جائے اور کوئی جس قدر حصے چاہے خرید لے مگر یہ بات مدنظر رکھے کہ اگر نقصان ہو تو برداشت کر لیا جائے گا تو وہ حالت پیدا نہ ہو گی جو سٹور کے فیل ہونے سے ہوئی۔اوّل تو امید ہے کہ اب ہم انشاء اللہ نقصان نہ اُٹھا ئیں گے اور اگر اُٹھا ئیں گے تو پہلے نقصان سے جو سبق حاصل ہو ا ہے اُسے یادرکھ سکیں گے۔جرابوں کا کارخانہ اس قسم کے کام کے لئے پچھلے مہینہ ایک تجویز پر غور کیا گیا۔اور مولوی عبد الرحیم صاحب درد کو اس کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لئے لاہور اور لدھیانہ بھیجا۔اور وہ کام یہ ہے کہ جرابوں وغیرہ کا کارخانہ جاری کیا جائے۔درد صاحب نے بتایا کہ ڈائریکٹر آف انڈسٹری نے بتایا یہ کامیاب کام ہے۔اس سے ۲۵ فیصدی نفع حاصل ہوا ہے۔ہمارا ارادہ ہے کہ اس کے لئے جو سرمایہ جمع کیا جائے اُسے اس طرز پر جماعت میں پھیلائیں کہ کوئی شخص اتنے حصے نہ لے کہ اگر خدانخواستہ گھاٹا ہو تو اس کے لئے نا قابل برداشت ہو جائے۔یہ سکیم امور عامہ والے پیش کریں گے۔اسے اس طرح پیچھے نہ ڈالا جائے جیسے پہلے ہوتا رہا ہے۔اندازہ لگایا گیا ہے کہ سات ہزار کے سرمایہ سے یہ کارخانہ چل سکتا ہے اور آئندہ اور زیادہ وسیع کیا جا سکتا ہے۔صحیح اعداد ناظر صاحب امور عامہ پیش کریں گے۔با اثر لوگ بطور شغل کوئی پیشہ اختیار کریں ایک صورت اور بھی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا