خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 22
خطابات شوری جلد اوّل ۲۲ مجلس مشاو مشاورت ۱۹۲۲ء کرتے مر جائے گی مگر جماعت کے لئے یہ شرم کا مقام ہوگا کہ اسکے کام کرنے والے مر گئے اور دوسرے امداد کو نہ آئے اور اگر بعد کو آئے تو ایسا ہی ہو گا جیسے کسی نے کہا ہے کہ : - جب مر گئے تو آئے ہمارے مزار پر پتھر پڑیں صنم تیرے ایسے پیار پر اور حضرت صاحب کا بھی ایک شعر ہے۔امروز قوم من نه شناسد مقامِ من روزے بگریہ یاد کند وقت خوشترم ہمارے باہر کے مبلغین کی حالت یہ ہے کہ مفتی صاحب ایک جگہ نہیں رہ سکتے کیونکہ ناواقفوں سے انہوں نے قرضے لئے ہوئے ہیں جو تقاضے کرتے ہیں اور مکان چھوڑ کر ملک میں بھاگے پھرتے ہیں ان کا لحاظ بھی ہے کہ لوگ نالش نہیں کرتے لیکن اگر کوئی کر دے کہ یہ ہمارا رو پید ادا نہیں کرتا تو کتنی بدنامی ہوگی۔یا انہیں کے احساسات سوچ لو کیا ہو نگے۔گویا انہیں جنگل میں چھوڑا ہوا ہے اور کوئی خبر نہیں لیتا۔یہی حال لندن مشن کا ہوتا اگر مسجد کا روپیہ نہ ہوتا۔میں نے خیال کیا کہ مسجد تو بنانی تھی نمازیوں کے لئے اگر نمازی مر گئے تو کس کے لئے بنائیں گے اس لئے میں نے اس میں سے خرچ کرنے کی اجازت دے دی۔یہی حال افریقہ کا ہے ہمارا ایک مبلغ بیمار تھا اور ڈاکٹر کے لئے فیس تک نہ تھی وہاں سے مشکلات کے خط آتے ہیں اور میں إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھ کر چُپ ہو رہتا ہوں۔ایسی حالت میں جماعت کو اپنی ذمہ داری سمجھنی چاہئے۔ایک تو یہ تجویز در پیش ہے کہ اس وقت ۵۵۰۰۰ روپیہ چاہئے علاوہ ماہوار چندوں کے۔اب قرضہ فنڈ غالباً بند کر دیا جاویگا۔اس وقت آپ لوگوں نے تجویز کرنی ہے کہ کس طرح یہ روپیہ مہیا کیا جاوے اور اسکے ساتھ ہی آپ کی ذمہ داری ہوگی کہ ماہوار چندوں میں کمی نہ ہو۔یہ نصف نظارت اور نصف انجمن کو دیا جاویگا اور پانچ ہزار امریکہ کا ہوگا۔صیغه تعلیم و تربیت و تربیت دوسری بات تعلیم و تربیت کا محکمہ ہے۔یہ پہلے نہیں قائم ہوا بلکہ مبین وقت پر قائم ہوا۔اس صیغہ سے مراد صرف مدر سے قائم کرنے نہیں تھے اور باتیں مد نظر تھیں۔مدر سے بھی شامل تھے مگر یہ ایک ضمنی بات تھی مگر دوسروں کو سمجھانا کتنا مشکل ہوتا ہے۔یہ اس سے ظاہر ہے کہ دو سال کے عرصہ میں روکنے کے باوجود یہ صیغہ پرائمری مدر سے قائم کرتا چلا گیا اور اس طرح اصل کام کو بھول گیا۔اب اس صیغہ کی