خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 434
خطابات شوری جلد اوّل ۴۳۴ ت ۱۹۳۱ء اہل نہ اپنے آپ کو ثابت کر دیں۔بعض لوگ سمجھتے ہیں جب اسلام غالب ہوگا تو پھر ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔ان کی مثال اُن غیر احمد یوں کی طرح ہے جو کہتے ہیں کہ مسیح موعود نے آکر مسلمانوں کو تمام دُنیا پر غالب کر دینا ہے، پھر ہمیں اسلام کے لئے کچھ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔بے شک مسیح موعود کے وقت اسلام غالب ہو گا مگر اُنہی لوگوں کے ذریعہ جو آپ پر ایمان لانے والے ہوں گے اور ایمان وہی لا سکتے ہیں جو دین کی خدمت کے لئے تیار ہوں۔چنانچہ جب مسیح موعود آیا تو ایسے لوگ آپ کو ماننے سے بھی محروم رہ گئے جو خود دین کی خدمت کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔اور یہ چاہتے تھے کہ مسیح موعود بیٹھے بٹھائے اُنہیں دُنیا میں غلبہ اور شوکت دے دے گا۔یہی حال ان لوگوں کا ہے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانا مگر دین کی خدمت میں حصہ نہ لیا یا اتنا نہ لیا جتنا انہیں لینا چاہئے تھا۔بے شک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس لئے آئے کہ اسلام کو دُنیا میں ترقی دیں مگر یہ ضروری نہیں کہ اسلام کی ترقی ہمارے ہاتھوں ہومگر ہم اس کے اہل ثابت ہوئے تو ہمارے ہاتھوں ہوگی ورنہ خدا تعالیٰ کوئی اور قوم کھڑی کر دے گا۔پس ایسا عظیم الشان کام جس کے لئے ہزاروں سال سے دُنیا امید لگائے بیٹھی تھی ، جس کی تمام انبیاء خبر دیتے آئے تھے، وہ ہمارے ہاتھوں سے پورا ہو تو ہماری کتنی بڑی خوش قسمتی اور کتنی بڑی عزت کا موجب ہے۔معمولی باتوں کے لئے جان دینے والے دنیا میں لوگ معمولی معمولی باتوں کے لئے جانیں دے دیتے ہیں۔ایک سپاہی چند روپے ماہوار کا ملازم ہو کر میدانِ جنگ میں جاتا اور گولی کھا کر مر جاتا ہے مگر باوجود اس کے ہر بہادر آدمی سپاہی بننا باعث عزت سمجھتا ہے۔حالانکہ اوّل تو یہ ضروری نہیں کہ یہ عزت حاصل ہو سکے لیکن اگر خاص عزت مل بھی جائے تو کیا ضروری ہے کہ وہ اس عزت سے فائدہ بھی اُٹھا سکے۔بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں جنھیں دنیوی لحاظ سے عزت حاصل ہو جاتی ہے مگر وہ اس سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔خدا کے دربار سے ملنے والی عزت مگر اللہ تعالیٰ کے دربار سے جو عزت ملتی ہے وہ یقینی ہوتی ہے اور پھر اس کے متعلق یہ بھی