خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 431 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 431

خطابات شوری جلد اوّل ۴۳۱ رت ۱۹۳۱ء معرض خطر میں پڑ جائے گی، اس کے لئے ابھی سے تیاری کرنی چاہئے۔اس کے لئے میں نے دو تجویزیں کی تھیں۔ایک یہ کہ ریزرو فنڈ قائم کیا جائے جس سے عام مسلمانوں کے مفاد کے متعلق کام کیا جائے۔اور دوسری یہ کہ ہر سال کم از کم دس مبلغ بڑھائے جائیں تا کہ اپنی جماعت کو اتنا مضبوط کیا جا سکے کہ ضرورت کے وقت دشمنانِ اسلام کا مقابلہ کر سکے۔مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ باوجود اس کے کہ احباب نے آمادگی ظاہر کی تھی مگر ریز روفنڈ میں کوئی خاص حصہ نہیں لے سکے۔اس وقت تک اس فنڈ میں ۳۰ ہزار کے قریب رقم جمع ہوئی ہے جس کے جمع کرنے کے لئے پانچ ہزار کے قریب خرچ کرنا پڑا اور ۲۵ ہزار باقی بچے۔اس میں سے ۲۰ ہزار کی رقم ایک کام پر لگائی گئی ہے اور پانچ ہزار خزانہ میں جمع ہے۔اگر دوست اس کے لئے کھڑے ہو جاتے تو بہت کچھ کام کر سکتے تھے اور میں مان ہی نہیں سکتا کہ مومن کسی کام کی نیت کر کے کھڑا ہو اور اُس کے لئے کوشش کرے مگر وہ کام نہ ہو۔مومن کو کس طرح استقلال دکھانا چاہیئے مومن کی کوشش اس کا نام نہیں کہ کسی سے اس کام کے لئے کہہ دے اور بس۔اگر مومن کی کوشش یہی ہوتی تو کبھی دُنیا میں اسلام نہ پھیلتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب اپنے رشتہ داروں، اپنے شہر والوں اور قریب کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی تو ان لوگوں نے ہنسی کی ، آپ کو دکھ دیئے ، آپ کے کام میں رکاوٹیں ڈالیں مگر آپ نے خدا تعالیٰ سے یہ کہہ کر کام نہ چھوڑ دیا کہ لوگ میری باتیں سنتے نہیں اور ماننے کے لئے تیار نہیں بلکہ آپ نے جو کچھ کہا وہ یہ تھا کہ چاہے کچھ کرو مجھے جو تعلیم دے کر خدا تعالیٰ نے بھیجا ہے اُسے میں ضرور پھیلا ؤں گا اور کسی حالت میں بھی اُسے نہ چھوڑوں گا۔حتی کہ وہ شخص جس نے آپ کی بچپن میں پرورش کی اور ہر دُکھ اور تکلیف میں آپ کا ساتھ دیا جب اُس کی عزت، اُس کی جان اور اُس کا مال آپ کی وجہ سے خطرہ میں پڑ گیا کیونکہ مخالفین نے اسے دھمکی دی کہ اگر تم اس کا ساتھ نہ چھوڑو گے تو ہم تمھیں بھی نقصان پہنچا ئیں گے تو ایسے موقع پر آپ نے اسے کہا آپ میرا ساتھ چھوڑ دیں تا میری وجہ سے تکلیف نہ اُٹھا ئیں لیکن اے چا! یہ نہیں ہو سکتا کہ جو تعلیم خدا تعالیٰ نے مجھے دنیا کو پہنچانے کے لئے دی ہے، اُسے میں چھوڑ دوں۔خواہ سورج میرے دائیں اور چاند میرے بائیں ہاتھ پر رکھ دیا