خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 427 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 427

خطابات شوری جلد اوّل ۴۲۷ ت ۱۹۳۱ء بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ مجلس مشاورت ۱۹۳۱ء ( منعقده ۳ تا ۵ / اپریل ۱۹۳۱ء) پہلا دن مجلس مشاورت منعقدہ ۳ تا ۵۔اپریل ۱۹۳۱ء کے افتتاحی اجلاس کے آغاز میں دُعا کے متعلق حضور نے فرمایا : - " پیشتر اس کے کہ مجلس مشاورت کی کارروائی شروع کی جائے میں چاہتا ہوں کہ دعا سب دوست مل کر دُعا کر لیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے تمام کاموں کو اپنے لئے مخصوص کر دے، ہمارے مشوروں اور ہماری تقریروں اور ہماری آراء میں محض اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی، سلسلہ احمدیہ کی ترقی اور دینِ اسلام کی بڑائی کا خیال ہو۔افتتاحی تقریر تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے حسب ذیل افتتاحی تقریر فرمائی:- اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمیں پھر توفیق عطا کی ہے کہ ہم ساری دُنیا سے اختلاف رکھتے ہوئے آج اس لئے جمع ہوئے ہیں کہ باقی دنیا کو جو اپنی مادی ترقی کے لئے مشورے کرتی اور دنیوی ترقی کے لئے اپنے دماغوں کو خرچ کرتی ہے، دین کی دعوت دیں اور روحانیت کی طرف متوجہ کریں۔باقی دُنیا صرف دُنیا کے لئے جد و جہد کر رہی ہے لیکن ہم خدا کے فضل سے اس لئے جمع ہوئے ہیں کہ وہ نور ، وہ ہدایت اور وہ صداقت جو اللہ تعالیٰ نے دُنیا کی ہدایت کے لئے بھیجی ہے اس کی ترقی کے لئے کوشش کریں ، اس کی اشاعت کے لئے غور کریں اور اسے پھیلانے کے لئے تجاویز سوچیں اور ان کے ضمن میں جو مادی، تمدنی اور سیاسی باتیں پیدا ہوں، اُن پر غور کریں لیکن اس لئے نہیں کہ اپنی ذات کے لئے کچھ