خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 418
خطابات شوری جلد اوّل ۴۱۸ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء توجہ دلائی ہے اُمید ہے ناظر صاحب بیت المال ان کی طرف توجہ کریں گے۔مثلاً ایک مد میں پچھلے سال کی آمد سے بھی کم رقم رکھ دی گئی۔ناظر صاحب کہتے ہیں کہ اس کے متعلق اُنہوں نے کوئی جواب دیا ہے مگر وہ جواب میری سمجھ میں نہیں آیا۔بہر حال آئندہ بجٹ بناتے وقت زیادہ احتیاط سے کام لینا چاہئے اور تحصیل چندہ پر بہت زور دینا چاہئے۔تحصیل چندہ کے متعلق ایک تجویز میں کے وے تحصیل کے متعلق ایک تجویز میرے ذہن میں یہ آئی ہے کہ چونکہ اب جلد سال شروع ہونے والا ہے اور محصلوں کے لئے اس سال تشخیص چندہ مشکل ہو گی اور دیر کی وجہ سے کام رُکا رہے گا اس لئے اس سال تشخیص اس طرح ہو کہ جو نمائندے یہاں آئے ہیں وہ ارد گرد کی ایک ایک دو دو جماعتوں کا ذمہ لیں کہ چھٹی یا کسی اور موقع پر ان جماعتوں میں جا کر اُن کی آمدنی کی تشخیص کر کے بھجوا دیں گے اس طرح مئی کے اندر اندر تشخیص ہوسکتی ہے اور اس کے لئے صرف پہلے سال وقت ہے۔پھر جب نقشے تیار ہو جا ئیں تو پھر محصل ان میں آسانی سے تبدیلیاں کر لیا کریں گے۔پس اپنی اپنی جماعت کے سوا پاس کی دو جماعتوں کے متعلق ذمہ لیں اور تشخیص کر کے بھیج دیں۔ہر شخص کی آمد لکھ دیں قطع نظر اس سے کہ وہ چندہ دینے کے لئے تیار ہے یا نہیں۔اس طرح جو آمد تجویز ہوئی اس کے مطابق یہاں سے اُس جماعت کا بجٹ بنا کر بھیج دیا جائے گا۔پھر جو جماعت اس بجٹ کو پورا کرے گی وہ تعریف کی مستحق ہوگی اور جو پورا نہ کرے گی اُسے توجہ ہوگی کہ پورا کرنے کی کوشش کرے۔ریز روفنڈ کی طرف توجہ کی جائے پھر ریز رو فنڈ کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ایسے کاموں کے لئے مفید ہوسکتا ہے جو عام یہ مسلمانوں سے تعلق رکھتے ہیں جیسے اچھوت اقوام کی اصلاح کے لئے کام ہے۔یہ دراصل دوسرے مسلمانوں کا بھی کام ہے مگر ہم چونکہ ساری دُنیا کی اصلاح کے لئے کھڑے ہوئے ہیں اس لئے اس میں بھی ہاتھ ڈالتے ہیں۔اگر ریز روفنڈ کو مضبوط کیا جائے تو ایسے کاموں میں ہاتھ ڈال سکتے ہیں بلکہ اور لوگ جو یونہی شور مچاتے رہتے ہیں کہ اُنہوں نے یہ کیا وہ کیا اُن کا منہ بند کر سکتے ہیں۔علاقہ ملکانہ میں سوائے ہمارے مبلغوں کے کوئی کام نہیں کر رہا۔حیدر آباد میں ہم نے کام شروع کیا ہوا ہے جہاں کئی سو غیر مسلم اسلام قبول کر چکے ہیں۔ہم