خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 405 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 405

خطابات شوری جلد اوّل ۴۰۵ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء اوّل یہ کہ مجلس معتمدین سلسلہ کی تمام جائداد کی نگران اور مالک ہے گو خلیفہ کے ماتحت ہے۔(۲) خلیفہ کا ناظر صاحبان کو مجلس معتمدین کے ممبر مقرر کرنا درست نہیں۔(۳) مجلس معتمدین کا انتخاب خلیفہ کی طرف سے نہیں بلکہ جماعت کے انتخاب سے ممبر مقرر ہونے چاہئیں۔اور یہ تینوں نتیجے ہمارے خلافت کے متعلق عقیدہ کے خلاف ہیں اور دُنیا کی کانسٹی ٹیوشنز کے بھی خلاف ہیں۔کوئی پارلیمنٹ وزراء مقرر نہیں کرتی مگر کمیشن کہتا ہے کہ مجلس شوری مجلس معتمدین مقرر کرے۔ساتھ ہی یہ کہا گیا ہے کہ ہم اس تفصیل میں نہیں جانا چاہتے کہ کس طرح انتخاب ہو اور کس طرح وہ ممبران اجلاس کریں۔ممبران کی تعداد کیا ہو اور کتنے عرصہ کے بعد ان کا انتخاب ہو۔کس قدر حصہ نامزدگان ہو اور کس قدر منتخب شدہ کا۔پھر کمیشن کرنا کیا چاہتا ہے؟ منصب خلافت کے خلاف تجویز یہ تجویز منصب خلافت کے بالکل خلاف ہے مگر میں سمجھتا ہوں اس قسم کی باتوں کا علم نہ ہونے کی وجہ سے انہیں یہ خیال آیا ور نہ کمیشن کے پریذیڈنٹ صاحب اور ایک دوسرے ممبر صاحب نے جس بشاشت سے اپنی رپورٹ میں میری جرح سُنی ہے اُس سے میں خیال بھی نہیں کر سکتا کہ انہوں نے منصب خلافت کو نقصان پہنچانے کے لئے یہ تجویز کی ہے۔چونکہ یہ ایک غلط خیال تھا اور آئندہ کے لئے نقصان رساں ہو سکتا تھا جو نا دانستہ طور پر پیش کیا گیا اس لئے میں نے اس کی اصلاح کر دی ہے لیکن گو کمیشن کے ممبروں کے متعلق میں سمجھتا ہوں ان سے نادانستہ غلطی ہوئی ہے۔مگر ممکن ہے کسی نے ان کے دل میں یہ خیال پیدا کیا ہو اور کوئی اور ہو جو اہم اعلان دیدہ و دانستہ یہ خیال رکھتا ہو اس لئے میں واضح کر دینا چاہتا ہوں اور کہتا ہوں لکھنے والے جلد لکھ کر اسے شائع کر دیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارا گواہ ہے ہم ایسے لوگوں سے تعاون کر کے کام نہیں کر سکتے۔ہم نے اس قسم کے خیالات رکھنے والے ان لوگوں سے اختلاف کیا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت میں رہے، آپ کے پاس بیٹھے، آپ کی باتیں سنیں ، ہم اپنے جسم کے ٹکڑے الگ کر دینا پسند کر لیتے لیکن ان کی علیحدگی پسند