خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 404 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 404

خطابات شوری جلد اوّل ۴۰۴ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء کڑی بھی خلیفہ ہے۔خلیفہ مجلس معتمدین مقرر کرتا ہے اور وہی مجلس شوری مقرر کرتا ہے۔دونوں مجلسیں اپنی اپنی جگہ خلیفہ کی نمائندہ ہیں۔اگر مجلس معتمدین مجلس شوری کے ماتحت ہو تو اس کا مطلب ہوا کہ خلیفہ مجلس شوری کے فیصلہ کا پابند ہو۔مجلس شوریٰ جو کا رکن مقرر کرے خلیفہ ان سے کام لے۔حالانکہ کوئی دُنیا کی مہذب حکومت ایسی نہیں ہے جس کی پارلیمنٹ خلیفہ مقرر کرتی ہو اور کمیشن کا یہ ایسا مشورہ ہے کہ دنیاوی حکومتوں کے نام کے بادشاہوں کے حقوق بھی اس کے لحاظ سے محفوظ نہیں رہتے اور اُن پر ابھی ایسی پابندی نہیں ہے جو کمیشن نے خلیفہ پر عائد کی ہے۔اس بات کا خیال کمیشن کو بھی آیا اور انہوں نے سمجھا کہ اس طرح خلیفہ کے اختیارات پر تو پابندی عائد نہیں کی جا رہی؟ اس وجہ سے انہوں نے یہ لکھ دیا کہ مجلس مشاورت میں مجلس معتمدین کا کس طرح انتخاب ہو، اس کے متعلق بعد میں غور ہو۔کارکنوں کا انتخاب صرف خلیفہ کر سکتا ہے مگر میں صاف طور پر بتا دینا چاہتا ہوں کہ کارکنوں کا انتخاب سوائے خلیفہ کے اور کسی کے اختیار میں نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے انتخاب کا رکنان کے متعلق تو مشورہ بھی ثابت نہیں ہوتا۔خلفاء کے وقت بھی اس کے لئے مشورہ کی پابندی نظر نہیں آتی۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے وقت سارے کہتے رہے کہ حضرت خالد کو معزول نہ کیا جائے مگر انہوں نے ان کی بجائے ابو عبیدہ کو مقرر کر دیا۔کمیشن کا ایک فقرہ کمیشن کا یہ فقرہ کہ :- ”اصولاً ہمیں یہ درست نہیں معلوم ہوتا کہ انجمن معتمدین صرف ناظروں کی جماعت کا نام ہو۔انجمن معتمدین خلیفہ وقت کی ماتحتی میں سلسلہ کی تمام جائداد کی نگران اور مالک مقرر ہوتی ہے اس واسطے وہ صحیح معنوں میں جماعت کی نمائندہ ہونی چاہئے۔ناظر صاحبان جو جماعت کے ملازمین میں سے ہیں کسی طرح بھی جماعت کے نمائندہ نہیں کہلا سکتے۔ہمارے خیال میں انجمن معتمدین کے ممبران جماعت کے انتخاب سے مقرر ہونے چاہئیں۔“ یہ خلافت پر تبر ہے کیونکہ اس کا یہ مطلب ہے خلیفہ کا انتخاب صحیح نمائندہ جماعت نہیں ہے اور اس سے یہ نتائج نکلتے ہیں۔