خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 392 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 392

خطابات شوری جلد اوّل ۳۹۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء یہ مد بجٹ میں رکھی جاتی ہے مگر جو بجٹ کمیشن نے دیکھا اُس میں چھپائی کی غلطی فیصلہ سے یہ نہ رکھی گئی۔اگر کمیشن اس کے متعلق نظارت متعلقہ سے دریافت کرتا تو وہ بتا دیتی کہ بہت چھینے میں یہ غلطی ہوئی ہے ورنہ یہ مد رکھی جاتی ہے۔ضمنی سفارش (ب) بیٹے پر زیادہ خور کرنے کا موقع نکالنے کے لئے کارتوں کی رپورٹیں فیصلہ مجلس شوریٰ میں پیش نہ ہوا کریں بلکہ علیحدہ طبع ہو جایا کریں۔میں اسے منظور کرتا ہوں کیونکہ مجلس شوریٰ میں مشاورت کا وقت کم ہوتا ہے۔ضمنی سفارش (ج) مجلس مشاورت کا ایجنڈا اسب کمیٹیوں کے سپر د ہونے کے بغیر ہی براہِ راست مجلس شوری میں پیش ہو جایا کرے۔منظور شدہ بجٹ سے اگر زیادہ خرچ کرنے کی ضرورت پڑے تو سپلیمنٹری بجٹ مجلس میں پیش ہوا کرے۔فیصلہ میں اس میں یہ ترمیم کرتا ہوں کہ ایجنڈا کے ضروری امور سب کمیٹی کے سپرد ہوں سارے ایجنڈا کے لئے سب کمیٹیاں نہ بنائی جائیں۔سپلیمنٹری بجٹ پہلے ہی خلیفہ کی منظوری سے پاس ہوتا ہے اس کی منظوری کے بعد دوبارہ شوری میں پیش کرنا اختیارات خلیفہ اور اس کے منصب کے خلاف ہے اس لئے میں اس حصہ کو نا منظور کرتا ہوں۔اٹھارہویں سفارش اس کے متعلق آخر میں تفصیلی بحث کی گئی ہے۔انیسویس سفارش۔جملہ ملازمین انجمن کا ایک کیڈر (CADRE) مقرر کیا جائے جس سے ہر ایک محکمہ کی منظور شدہ اسامیاں اور ان اسامیوں کا گریڈ معلوم ہو سکے اور یہ بھی ظاہر ہو کہ کوئی شخص ایسی اسامی پر مقرر نہیں ہے جو منظور شدہ نہ ہو یا جس کی تنخواہ مقررہ گریڈ سے زیادہ ہو۔اس تجویز کے بعض پہلو نہایت مفید ہیں۔بعض بعض میں مشکلات ہیں اور بعض امور کے متعلق غلط فہمیاں ہوئی ہیں۔کمیشن کو یہ غلطی لگی ہے کہ اس نے پچھلے حالات کو نہیں دیکھا۔ہمارا کام پہلے قانون تجویز ہو کر پھر ان قوانین کے ماتحت نہیں چلا بلکہ