خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 391 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 391

خطابات شوری جلد اوّل ۳۹۱ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء رہے۔موجودہ صورت میں ریکرنگ پل کا آڈیٹر کی معرفت بھیجنا ترک کیا جائے۔فیصلہ یہ کام بھی دفتری ہے۔میں خود اس کے متعلق فیصلہ نہیں کرتا۔صرف اتنی بات سمجھتا ہوں کہ محاسب اور آڈیٹر براہ راست انجمن کے ماتحت ہوں ، نظارت کے ماتحت نہ ہوں۔اس کا فیصلہ کر دیتا ہوں۔آگے جو حساب کی بات ہے اس کا سمجھنا میرے لئے مشکل ہے۔طالب علمی کے زمانہ میں حساب کرتے وقت مجھے سر درد شروع ہو جا تا تھا اور جب ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے یہ بات پیش ہوئی تو آپ نے فرمایا جمع تفریق تک حساب سیکھ لینا کافی ہے اس سے زیادہ کی ضرورت نہیں۔تو حسابی امور سے مجھے واقفیت نہیں۔گو زبانی کوئی حساب کرنا ہو تو جلدی کر لیتا ہوں۔تقر رکمیٹی اس امر کے متعلق میں ایک کمیٹی تجویز کرتا ہوں جو اس پر غور کرے۔ہمارے ایک دوست اس کام کے خوب قابل تھے مگر وہ یہاں آئے نہیں۔ان کا نام صوفی عبدالرحیم صاحب ہے جو کہ امپیریل سروس میں ہیں۔میں ان اصحاب کی کمیٹی مقرر کرتا ہوں۔(۱) بابو محمد عالم صاحب راولپنڈی۔(۲) خان صاحب با بو برکت علی صاحب شملہ۔(۳) مرزا محمد صادق صاحب اکو نٹنٹ سیالکوٹ۔یہ صاحبان گورنمنٹ کے مختلف دفاتر کے طریق دیکھ کر فیصلہ کریں۔پرائیویٹ سیکرٹری تین دن کے اندر اندر انہیں اطلاع پہنچائیں۔موجودہ صورت میں امین یعنی خزانچی محض مشین کی طرح دستخط کرتا سولھویں سفارش رہتا ہے۔یہ امر موقوف ہو کر تمام بل خزانچی کی معرفت ادا ہوا کریں اور بعد ادائیگی محاسب کے پاس واپس آیا کریں اور روزانہ روپیہ دو قفلوں کے اندر رکھا جائے اور نکالا جائے اور خزانچی کی ضمانت لی جائے۔فیصلہ یہ نہایت معقول تجویز ہے، میں اسے منظور کرتا ہوں۔سترھویں سفارش بجٹ کے خرچ کی مدات میں مجلس شوری میں یہ ترمیم پیش ہونی چاہئے کہ خرچ میں زیادتی کر دی جائے اور بجٹ میں ایک مد غیر معمولی خرچ کی لازمی طور پر رکھی جائے جو انجمن معتمدین کے اختیار میں رہے یعنی وہ خرچ کر سکے۔