خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 17 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 17

خطابات شوریٰ جلد اوّل ۱۷ مجلس مشاورت ۱۹۲۲ جائے۔یہ دیکھنے کے لئے ایک آدمی مقرر ہوگا کہ کون پہلے کھڑا ہوا ہے اور کون بعد میں۔اگر بہت سے کھڑے ہوں تو باری باری انہیں بولنے کے لئے کہنا چاہئے۔جب سارے بول چکیں تو پھر پوچھنا چاہئے۔پھر کھڑا ہو تو پہلے نئے بولنے والے کو موقع دینا چاہئے سوائے اس صورت کے کہ کوئی سوال یا اعتراض اُس کی تقریر پر کیا گیا ہو اُس کے حل کرنے کے لئے کھڑا ہو۔اور دو دفعہ سے زیادہ بولنے نہ دیا جائے کیونکہ بات کو حل کرنا ہے بحث نہیں کرنی۔وہ شخص جس کو بولنے کا موقع دینے کے لئے مقرر کیا جائے وہ خلیفہ یا اس کے قائمقام کا مددگار ہوگا کیونکہ وہ دوسرے کاموں کی طرف توجہ کرے گا ادھر توجہ نہ کر سکے گا اس لئے وہ بطور نائب کام کرے گا۔سب کمیٹیوں کا طرز عمل (۱) صیغہ کا افسر اس کمیٹی کا امیر ہو۔اگر وہ اور جگہ لگا ہو تو اُس دفتر کا نائب یا جسے وہ مناسب سمجھے کہ قائمقامی کر سکتا ہے۔(۲) کمیٹی سیکرٹری خود مقرر کرے۔(۳) کوشش یہ ہو کہ رائے متفقہ ہو۔اگر نہ ہو سکے تو کثرت رائے لکھی جائے۔لیکن اگر قلیل التعداد والے سمجھیں کہ اُن کی یہی رائے ہے جسے ضرور پیش کرنا چاہئے تو اُن کی رائے بھی لکھی جائے۔مالی مشکلات وہ حالات جن پر مشورہ لینا ہے اگر چہ نسبتا یہ بات پیچھے ہے مگر اہم ہے، اس لئے پہلے بیان کرتا ہوں وہ بات مالی تنگی ہے۔پہلے تو یہ ہوتا تھا کہ انجمن اپنا بجٹ بناتی تھی اور نظارت اپنا اور اس پر عمل ہوتا تھا اس سال چونکہ مشکلات تھیں اس لئے میں نے کہا بجٹ میرے پاس آئے۔جتنی وہ کمی کر سکتے تھے اُنہوں نے کی جو ۳۰، ۳۵ ہزار کی کمی تھی۔پھر ایک اور کمیٹی بٹھائی جس نے ۴۳ ہزار کی اور کمی کی۔پھر بجٹ میرے پاس آیا میں نے اُس میں ۳۰ ہزار کی کمی کی۔مگر باوجود اس کے کہ اسقدر کمی کی اور لڑکوں کے وظائف میں اس قدر کمی کی کہ اس سے کم نہیں ہوسکتی تھی اور باوجود اس کے کہ پہلے ہی جو تنخواہ باہر ملتی ہے اُس سے بہت کم یہاں کام کرنے والوں کو ملتی ہے اب ان کی تنخواہ میں اور بھی کمی کر دی گئی ہے۔غرباء کو بچانے کے لئے جن غرباء کو قحط الاؤنس ملتا تھا وہ بند نہ کیا بلکہ جن کی تنخواہ ۶۰ سے اوپر تھی اُن کو ۱۵ فیصدی اور جن کی ۱۰۰ سے اوپر تھی اُن کی ۲۰ فیصدی کم کر دی گئی۔میں نے کہا اُن کو قربانی کرنی چاہئے اور سب نے خوشی سے