خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 16
خطابات شوریٰ جلد اوّل 17 مجلس مشاورت ۱۹۲۲ء شوری کے فوائد اب میں شوری کے فوائد بیان کرتا ہوں :۔(۱) کئی نئی تجاویز سُوجھ جاتی ہیں۔(۲) مقابلہ کا خیال نہیں ہوتا اس لئے لوگ صحیح رائے قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔(۳) یہ بھی فائدہ ہے کہ باتوں باتوں میں کئی باتیں اور طریق معلوم ہو جاتے ہیں۔(۴) یہ بھی فائدہ ہے کہ باہر کے لوگوں کو کام کرنے کی مشکلات معلوم ہوتی ہیں۔(۵) یہ بھی فائدہ ہے کہ خلیفہ کے کام میں سہولت ہو جاتی ہے۔وہ بھی انسان ہوتا ہے اُس کو بھی دھوکا دیا جا سکتا ہے۔اس طرح معلوم ہو جاتا ہے کہ لوگوں کا رُجحان کدھر ہے۔یوں تو بہت نگرانی کرنی پڑتی ہے کہ غلط رستہ پر نہ پڑ جائیں مگر جب شوری ہو تو جب تک اعلیٰ درجہ کے دلائل عام رائے کے خلاف نہ ہوں لوگ ڈرتے ہیں کہ اس پر عمل کریں اور اس طرح خلیفہ کو نگرانی میں سہولت حاصل ہو جاتی ہے۔مجلس شوری کا طریق (۱) خلیفہ عام ہدایات پیش کرے گا کہ کن باتوں پر مشورہ لینا ہے اور کن باتوں کا خیال رکھنا ہے۔(۲) اس کے بعد ہر محکمہ کے لئے سب کمیٹیاں مقرر ہو جائیں گی کیونکہ فوراً رائے نہیں دینی چاہئے بلکہ تجربہ کار بیٹھ کر سکیم تجویز کریں اور پھر اس پر بحث ہو۔پہلے کمیٹی ضرور ہونی چاہئے۔جیسے معاملات ہوں اُن کے مطابق وہ غور کریں، سکیم بنائیں پھر اس پر غور کیا جائے۔کمیٹی پوری تفاصیل پر بحث کرے اور پھر رپورٹ کرے۔وہ تجاویز مجلس عام میں پیش کی جائیں اور اُن پر گفتگو ہو۔جب تجاویز پیش ہوں تو موقع دیا جائے کہ لوگ اپنے خیالات پیش کریں کہ اس میں یہ زیادتی کرنی چاہئے یا یہ کمی کرنی چاہئے یا اس کو یوں ہونا چاہئے۔تینوں میں سے جو کہنا چاہے کھڑے ہو کر پیش کر دے۔ان تینوں باتوں کے متعلق جس قدر تجاویز ہوں ایک شخص یا بہت سے لکھتے جائیں۔پھر ایک طریق یا ایک طرز کی باتوں کو لے کر پیش کیا جائے کہ فلاں یہ کی چاہتا ہے اور فلاں یہ زیادتی۔اس پر بحث ہومگر ذاتیات کا ذکر نہ آئے۔اس بحث کو بھی لکھتے جائیں۔جب بحث ختم ہو چکے تو اُس وقت یا بعد میں خلیفہ بیان کر دے کہ یہ بات یوں ہو۔بولنے کے وقت بولنے والا کھڑا ہو کر بولے۔اور جو پہلے کھڑا ہوا سے پہلے بولنے کا موقع دیا