خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 380 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 380

خطابات شوری جلد اوّل تأليف و تصنیف کے ماتحت ہو۔۳۸۰ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء باقی سفارش جو کمیشن کی تألیف و تصنیف کے صیغہ کے متعلق یہ ہے کہ انہیں اپنے اصل کام یعنی مستقل لٹریچر کے مہیا کرنے کی طرف توجہ کرنی چاہئے اور نصاب تعلیم کے مکمل کرنے اور مخالفین کے اعتراضوں کا جواب کی کمی کو پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔میں اس سے متفق ہوں۔کمیشن کی رپورٹ پر اس صیغہ کو جلد سے جلد عمل کرنا چاہئے اور چاہئے کہ وہ کسی آدمی کو اس قسم کے متفرق کاموں کے لئے فارغ کریں جو کہ نصاب بنائے اور وقتی ضرورت پوری کرے۔تیسری سفارش کمیشن کی تیسری سفارش یہ ہے کہ نظارت ضیافت کو نظارت کے نام سے موسوم نہ کیا جائے بلکہ انسپکٹر یا محافظ کے نام سے اس کے اعلیٰ افسر کو موسوم کیا جائے۔اسی طرح ناظر مقبرہ بہشتی کو بھی ناظر کے نام سے موسوم نہ کیا جائے بلکہ وہ پریذیڈنٹ مجلس کار پردازان مصالح مقبرہ بہشتی کے نام سے ہی موسوم رہیں۔فیصلہ میرے نزدیک اس سوال سے کمیشن کا تعلق نہ تھا۔کمیشن کا کام یہ تھا کہ رپورٹ کرے ناظر اپنے مقررہ فرائض کو عملہ اور اس رقم کو مدنظر رکھتے ہوئے جو اُن کے لئے منظور کی جاتی ہے کما حقہ ادا کر رہے ہیں یا نہیں؟ اسے اس امر سے کوئی تعلق نہ تھا کہ کسی صیغہ کے انچارج کا نام ناظر ہو یا انسپکٹر اور چونکہ ناظر ضیافت آنریری ہے اور اس کا کوئی بار سلسلہ پر نہیں پڑتا۔پھر چونکہ یہ وہ کام ہے جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خود کرتے رہے اور آپ نے اسے سلسلہ کا بہت اہم کام قرار دیا۔اس لئے میری غیرت برداشت نہیں کرتی کہ اس کام پر جسے مقرر کیا جائے وہ انسپکٹر ہو اور خاص کر اس وقت جب کہ اس کے لئے ایک پیسہ بھی خرچ کرنا نہیں پڑتا۔پس میں اس صیغہ کے افسر کا نام ناظر برقرار رکھتا ہوں۔اگر دوسرے کام مجھے اجازت دیتے اور لوگ اعتراض نہ کرتے کہ خلیفہ روپیہ اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے تو وہ کام جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خود کرتے رہے، میں خود اسے اپنے ہاتھ میں رکھتا نہ یہ کہ اسے ایسے شخص کے سپر د کر دوں جسے کسی اور کے ماتحت رکھا جائے۔پھر یہ کام اپنی نوعیت کے لحاظ سے بہت اہم ہے۔ہر طبقہ کے اور ہر قسم کے لوگ یہاں آتے ہیں۔ان سے ملاقات اور ان کے لئے ضروری انتظام کوئی