خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 379
خطابات شوری جلد اوّل ۳۷۹ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء گا اور اعلان کر دیا جائے گا۔اس کے لحاظ سے جماعتوں کو تیار رہنا ہوگا اور جو ناظر دورہ پر جائے وہ اس دورہ میں دوسری نظارتوں کا کام بھی کر سکتا ہے۔اس کا یہ بھی فائدہ ہو سکتا ہے کہ ناظر جماعت کے ہر طبقہ سے واقف ہو جائیں گے۔گو ایک صیغہ کے اصل ناظر کا دورہ کرنا جتنا مفید ہو سکتا ہے اُتنا دوسرے ناظر کا دورہ اس صیغہ کے لئے مفید نہیں ہوسکتا، لیکن پھر اُس کی باری آجائے گی۔اس طرح ایک دو سال میں ہر ناظر ہندوستان کی سب جماعتوں سے ذاتی تعارف پیدا کر لے گا۔پس میں ناظروں کے لئے سال میں دو دورے تجویز کرتا ہوں۔دوسری سفارش کمیشن کی دوسری سفارش یہ ہے کہ پریس اور اخبارات ناظر صاحب تألیف و تصنیف کے ماتحت کر دیئے جائیں اور ناظر صاحب تألیف و تصنیف مختلف اخبارت و رسالہ جات کا ملاحظہ کر کے ان میں جو کچھ احمدیت یا اسلام کے متعلق ہو اُس کی تردید یا تائید میں تصانیف کرتے یا کراتے رہیں اور احمدی بچوں کے لئے بالخصوص اور تمام ہندوستان کے لئے بالعموم تعلیمی نصاب جس سے اخلاق فاضلہ پیدا ہوں مرتب کرتے یا کراتے رہیں اور سلسلہ کے اخبارات کی نگرانی فرما کر ان میں اس قسم کی اصلاحات فرماتے رہیں جن کے ذریعہ سے اپنی جماعت اور غیروں میں ان کے مطالعہ کا شوق پیدا ہو کر آمدنی میں اضافہ ہو۔فیصلہ یہ سفارش پیش کرنے کی ایک وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ نظارت دعوۃ و تبلیغ کے پاس کام زیادہ ہے، اس کے کام کا ایک حصہ دوسری نظارت میں کر دیا جائے۔میں نے اس سفارش کے متعلق یہ رائے قائم کی ہے کہ بے شک اخبار اور رسالے بھی تصنیف سے تعلق رکھتے ہیں مگر تصنیفیں دوستم کی ہوتی ہیں ایک عارضی اور دوسری مستقل۔اخبار مستقل تصنیف نہیں ہیں بلکہ ان کا یہ کام ہوتا ہے کہ ہنگامی طور پر جو غوغا پیدا ہو اُس کا مقابلہ کیا جائے اور یہ کام دعوۃ و تبلیغ سے ہی تعلق رکھتا ہے۔اس لئے میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ رسائل تو نظارت تألیف و تصنیف کے ماتحت ہوں اور اخبار دعوۃ و تبلیغ کے ماتحت۔مثلاً ریویو اردو اور انگریزی تألیف و تصنیف کے ماتحت ہوں اور الفضل سن رائز اور مصباح دعوۃ و تبلیغ کے ماتحت۔آئندہ بھی اگر کوئی ماہوار رسالہ نکلے یا اس سے زیادہ عرصہ کا تو وہ