خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 312

خطابات شوری جلد اوّل ۳۱۲ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء پھسلتے جاتے ہیں کیونکہ ان کے لئے کوئی سہارا نہیں ہوتا یا اونچی پہاڑی سے پھسلنے والے کے لئے کوئی روک نہیں ہوتی ، وہی حالت اس وقت مسلمانوں کی ہے۔اس وقت جو چیز یقین دلاتی ہے کہ ہم کامیاب ہوں گے وہ خدا تعالیٰ کے وعدے ہیں، سوائے اس کے کوئی سہارا نہیں۔نہ ہمارے پاس مال ہے، نہ تربیت ہے، نہ تعداد کے لحاظ سے دُنیا کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔جب یہ حالت ہے تو سوچ لوکس قدر خشیت اور ڈرنے کا مقام ہے اور پھر کس قدر کوشش، کتنے ایثار اور کیسے تو کل کی ضرورت ہے۔خطرناک دن میں نے اسی جگہ پچھلے سال بیان کیا تھا کہ اسلام کے لئے نہایت خطرناک دن ہیں۔قریب ہے کہ چند سال کے اندر اندر قو میں فیصلہ کر لیں کہ کون زندہ رہنے کے قابل ہے اور کسے برباد ہو جانا چاہئے۔میرے یہ الفاظ اُس وقت چیستان نظر آتے تھے مگر خدا تعالیٰ نے دو ماہ کے اندر اندر ملک میں ایسا تغیر کر دیا کہ بہت لوگ انھیں سمجھ گئے۔اپریل میں میں نے یہ بیان کیا تھا اس کے بعد مئی، جون، جولائی میں جو جوش ہندوستان میں پیدا ہوا اُس سے معلوم ہو گیا کہ ہندو کیسے خیالات رکھتے ہیں۔مسلمانوں کی دلآزاری آپ لوگوں نے دیکھا کس طرح مسلمانوں کی دل آزادی کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دی گئیں اور آپ کی ہتک کی گئی۔پھر آپ لوگوں نے یہ بھی دیکھا کہ مسلمانوں کے پاس اس کے علاج کا کوئی ذریعہ نہ تھا۔ہندو اس قسم کی دل دوز اور دل آزار حرکات کرنے میں آزاد تھے۔حکومت کا رُعب بھی ان کو نہ ڈرا سکا۔حکومت نے بعض کو قید بھی کر دیا مگر چونکہ اُن کے پاس مال تھا، دولت تھی، اثر تھا، رسوخ تھا، اس لئے وہ کہتے تھے اس روش کو نہ چھوڑیں گے۔غرض مسلمانوں کو ستانے اور دکھ دینے کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پے بہ پے گالیاں دی گئیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر کیا گیا۔گالیوں سے اتنا جوش نہیں پیدا ہوتا جتنا قوتِ واہمہ کے ذریعہ نقلیں اُتارنے سے ہوتا ہے۔کئی عورتیں جب لڑتی ہیں تو یہی گالی نہیں دیتیں کہ تیرا بچہ مرجائے بلکہ مُردہ بچے کی شکل بناتی ہیں اور بین کرتی ہیں تا کہ اس طرح زیادہ دل آزاری ہو۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں ہی نہیں دی گئیں بلکہ بحیثیت قوم گالیاں دی گئیں اور وہ بند نہیں ہوئیں بلکہ ابھی تک جاری ہیں۔پھر