خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 311
خطابات شوری جلد اوّل کرنا شروع کر دیں تو کیا حال ہو۔۳۱۱ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء کثرتِ رائے کا احترام پس اگر کوئی صاحب دیکھیں کہ باقی لوگ ایک بات کو قبول کر رہے ہیں تو کوئی حرج نہیں، اُسے اُس بات سے اتفاق نہ ہو تو بھی خاموش رہے۔اُس کی رائے کے خلاف ہونے سے آسمان نہیں ٹوٹ پڑے گا۔مجھے اس دفعہ کی مجلس مشاورت کی چار پانچ باتوں سے اختلاف تھا مگر میں نے سوائے ایک آدھ کے باقیوں کو اس لئے بدلا نہیں کہ معمولی باتیں ہیں، ان سے کسی خاص نقصان کا خطرہ نہیں ہے اور کثرتِ رائے نے جو مشورہ دیا اُسی کو منظور کر لیا۔اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ ضروری نہیں ہماری رائے ہی صحیح ہو یہ امکان بھی ہے کہ کثرتِ رائے صحیح ہو اور بالعموم ہم دیکھتے ہیں مومنوں کی کثرتِ رائے صحیح ہوتی ہے۔اس لئے اگر دوسری رائے کی کثرت ہو تو یہ ضروری نہیں کہ اپنی رائے پر ہی زور دیا جائے۔کثرتِ رائے کا احترام کرنا چاہئے۔مشاورت کے فیصلوں پر عمل اس کے بعد میں احباب کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ میں نے سوائے ایک آدھ تبدیلی کے کثرتِ رائے کا احترام کیا ہے۔مجھے خدا تعالیٰ نے حق دیا ہے کہ میں کثرتِ رائے کے خلاف فیصلہ دے سکوں مگر میں نے اس حق کو کثرتِ رائے کے احترام کے لئے چھوڑ دیا۔گویا میں نے اپنے حق کو چھوڑ دیا مگر آپ میں سے تو کسی کو یہ حق نہیں کہ کثرتِ رائے کو رڈ کر دے اس لئے جو فیصلے یہاں ہوئے ہیں اگر ان پر کوئی عمل نہیں کرے گا تو گویا وہ حق ادا نہیں کرے گا۔اس لئے ان پر پورا پورا عمل کرنا چاہئے۔اسلام کی موجودہ مشکلات اس وقت اسلام ایسی مشکلات میں گھرا ہوتا ہے کہ ہم ان مشکلات کا اندازہ نہیں کر سکتے اور جب جُزوی طور پر اندازہ کرتے ہیں تو اس کا ایسا اثر دماغ پر پڑتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کا فضل شاملِ حال نہ ہو تو جنون ہو جائے۔اس حالت میں صرف اِس بات سے آرام حاصل ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا کلام کہتا ہے کہ ان مشکلات کا انجام بُرا نہیں ہو گا اور تم کامیاب ہو جاؤ گے۔یہ ایک سہارا ہے ورنہ اس کے بغیر کوئی پتھر نہیں جس پر پاؤں رکھیں۔جس طرح رسہ کشی کرنے والے