خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 301
خطابات شوری جلد اوّل مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء کے لئے بجائے اس کے کہ یہ تحریک رہے اسے فرض قرار دے دیا جائے۔یعنی ہر احمدی انجمن کا فرض ہو کہ اسے کامیاب بنانے کی کوشش کرے۔آپ لوگوں نے اس بات کے اس پہلو پر غور کرنا ہے کہ اس ذمہ داری کو اُٹھاتے ہوئے انجمنوں کے لئے دقتیں ہو سکتی ہیں یا نہیں اور وہ وقتیں کس طرح دُور کی جاسکتی ہیں تا کہ یہ تحریک کامیاب ہو۔“ چند ممبران کی آراء کے بعد رائے لی گئی ، فرمایا : - جو دوست ہر احمدی انجمن کو حکما جلسہ کرنے کا پابند قرار دینا چاہتے ہیں وہ کھڑے ہو جائیں :- ۱۲۲۔رائیں 66 جن کی یہ رائے ہو کہ حکماً پابند نہ کیا جائے۔وہ کھڑے ہو جائیں۔“ ۵۹۔رائیں رائے شماری کے بعد فرمایا: - فیصلہ ”میرے خیال میں وہ وقت جو میں نے خود بیان کی ہے وہ لیکچراروں کی ہے جلسہ کا انتظام کیا جا سکتا ہے لیکن ہر جگہ لیکچر دینے والوں کا انتظام کرنا مشکل ہوتا ہے۔گو لیکچروں کے لئے نوٹ تیار کر دیئے گئے ہیں مگر ان میں بھی صرف اشارے ہیں اور حوالے دیئے گئے ہیں کہ فلاں واقعہ فلاں کتاب سے لیا گیا ہے لیکن جسے معلوم ہی نہ ہو واقعہ کیا ہے تو وہ کیا کرے گا۔پھر جن کتابوں کا حوالہ دیا گیا ہے وہ ہر ایک کہاں خرید سکتا ہے یہ ایک مشکل ہے مگر اکثر حصہ مجلس نے چونکہ خود اس ذمہ داری کو اُٹھایا ہے اس لئے میں اسے منظور کرتا ہوں۔“ سب کمیٹی نظارت دعوۃ و تبلیغ کی طرف ب کمیٹی نظارت دعوت وتبلیغ کی رپورٹ سے ایک تجویز یہ پیش ہوئی کہ گورنمنٹ کے معزز عہدیداروں اور امراء میں تبلیغ کے لئے ایک مبلغ مختص کیا جائے۔اس پر بحث کرتے ہوئے کئی احباب نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔اس موقع پر حضور نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: -