خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 300
خطابات شوری جلد اوّل مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء تجارت میں ترقی کرنے کی تجویز ہے۔میرے نزدیک دونوں تجویز میں اہم ہیں مگر دونوں کے مل جانے کی وجہ سے ان پر صحیح طور سے غور نہیں کیا جاسکتا۔بے کاری کو دور کرنے کے لئے ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ہر سال ایک چیز لے لی جایا کرے۔ایسی چیز جس کی عام طور پر گھروں میں ضرورت پیش آتی ہے اور اپنے لئے فرض قرار دے دیا جائے کہ وہ چیز احمدی سے ہی خریدیں گے اور پھر احمدیوں سے ہی خریدیں۔اس کے لئے یہ ہو سکتا ہے کہ زکوۃ میں سے غرباء کو مدد دے کر یا اور کسی طرح اس کام پر لگا دیا جائے اور جو جو چیز وہ بیچیں اُس کے متعلق ہماری جماعت کا فرض ہو کہ احمد یوں سے ہی خریدے۔اس کے لئے ضرورت یہ ہے کہ غور کر کے ایسی چیزیں معلوم کی جائیں جو عام طور پر استعمال ہوتی ہوں۔ان کے ماہر تلاش کئے جائیں۔اس بات پر اس مجلس میں بحث نہیں ہو سکتی کیونکہ اس کے ایجنڈا میں شامل نہیں ہے۔“ تجویز بابت جلسہ ہائے سیرة النبی صلی اللہ علیہ وسلم اس تجویز کی بابت حضور نے فرمایا: - ہر انجمن اس بات کی ذمہ دار قرار دی جائے کہ وہ اپنے علاقہ میں ۲۰ جون کو جلسہ کرانے کی کوشش کرے گی اور ہر انجمن پر یہ لازم کر دیا جائے کہ اس جلسہ کے متعلق ایک نقشہ تیار کر کے دفتر میں روانہ کرے۔جس میں ان تمام شہروں، قصبوں اور دیہاتوں کا نام درج کیا جائے۔جہاں جہاں اس انجمن کے ذریعہ سے جلسہ کا انتظام کیا گیا ہے اور اس نقشہ میں اس جگہ کے مقررین کا نام بھی دیا جائے۔“ اس کی بابت حضور نے فرمایا: - دو یہ تجویز اس رنگ میں ہے کہ میں نے اعلان کیا ہے کہ اس سال ۲۰۔جون کو ہر جگہ جلسے کئے جائیں جن میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر لیکچر دیئے جائیں۔میں نے یہ حکم کے طور پر نہیں کہا تھا بلکہ تحریک کے طور پر کہا تھا چونکہ اس تحریک کو جاری کرنا نظارت دعوت وتبلیغ کا کام ہے اس لئے وہ چاہتی ہے کہ جماعت اس کام کو کامیاب بنانے