خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 281
خطابات شوری جلد اوّل ۲۸۱ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء رہیں وہاں ناظروں سے بھی کہوں گا کہ وہ دوستوں کا وقت ضائع نہ کریں۔ناظروں میں سے کسی کی آواز ایسی نہیں جو دھیمی ہو سوائے سید ولی اللہ شاہ صاحب کے کہ ان کی آواز کے دھیمی ہونے کا ثبوت ان کا ناک دے رہا ہے۔(شاہ صاحب کو نزلہ کی تکلیف تھی۔اس وجہ سے اچھی طرح بول نہ سکتے تھے )۔ت تعلیم و تربیت کی رپورٹ نظارت تعلیم وتربیت کی رپورٹ میں ایک خاص بات بیان کی گئی ہے، اس کی طرف احباب کو توجہ دلاتا ہوں اور وہ یہ کہ یہاں ۲۶ لڑکے ایک دوست کے خرچ پر پڑھ رہے ہیں۔وہ دوست خود ان پڑھ ہیں معمولی دستخط کرنا جانتے ہیں۔وہ تقریباً تین سو روپیہ ماہوار ان لڑکوں کی پڑھائی پر خرچ کر رہے ہیں۔میں نے اُن سے پوچھا آپ نے کس خیال سے اتنے لڑکوں کو اپنے خرچ پر پڑھنے کے لئے بھیجا؟ اُنھوں نے کہا میں خود پڑھا ہو انہیں اس لئے تبلیغ نہیں کر سکتا اس وجہ سے میں نے تجویز کی کہ کچھ لڑکوں کو پڑھا کر ملک میں پھیلا دوں تا کہ میرے تبلیغ نہ کر سکنے کا اس طرح ازالہ ہو جائے۔انھوں نے آئندہ کے متعلق بھی اپنی وصیت کا ذکر کیا جس میں ایک معقول رقم انھوں نے اس غرض کے لئے رکھی ہے کہ وہ اس طرح تعلیم پر خرچ ہوتی رہے۔یہ ایک بہت معقول طریق ہے مگر ہماری جماعت میں اس کی طرف توجہ کم ہے۔اگر الگ الگ نہیں تو کچھ جماعتیں مل کر لڑکوں کو پڑھنے کے لئے بھجوائیں اور وہ علم حاصل کر جائیں اور اپنے اپنے علاقوں میں مبلغ کا کام دیں تو اس طرح بہت فائدہ ہوسکتا ہے۔مقامی مدارس کے متعلق شکایت رپورٹ میں مقامی مدارس کے متعلق جو شکایت کی گئی ہے وہ ایک حد تک بجا ہے مگر ایک حد تک بے جا بھی ہے۔کہا گیا ہے کہ مدرسہ احمدیہ کے طلباء سلسلہ کے کاموں کی نسبت دُنیا کے کاموں کی طرف زیادہ مائل ہو رہے ہیں۔میں اس کی تصدیق کرتا ہوں۔دو تین سال سے یہ بات پیدا ہو گئی ہے۔میں مدرسہ احمدیہ کے افسروں کو توجہ دلاتا ہوں کہ ان کی توجہ زیادہ مدرسہ کی طرف ہونی چاہئے مگر خوشی کی بات یہ ہے کہ انگریزی کی تعلیم پانے والے زیادہ توجہ کر رہے ہیں اور عربی کے بعض طلباء تو کہتے ہیں مدرس انھیں کہتے ہیں کہ ملازمت کی