خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 279 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 279

خطابات شوری جلد اوّل ۲۷۹ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء بھی ایسی باتیں پائی جاتی تھیں۔مثلاً امور عامہ نے بیان کیا ہے کہ اس سال پانچ آدمیوں کو پاسپورٹ لے کر دیئے گئے۔یہ کون سا ایسا کام ہے جس کے بیان کرنے سے جماعت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے اور دوسرے دفتری کام کو چھوڑ کر اسے بیان کرنے کی کیا ضرورت تھی۔اتنا کہنا کافی تھا کہ پاسپورٹ حاصل کرنے میں مدد کی گئی ، اگر اس کے بیان کرنے کی ضرورت سمجھی جائے۔نظارت دعوت وتبلیغ کی رپورٹ نظارت نظارت دعوت و تبلیغ نے اپنی رپورٹ میں ایک نہایت اہم معاملہ کو بالکل ترک کر دیا ہے جس کا ابھی اخباروں میں بھی ذکر نہیں آیا اور وہ یہ کہ علماء کی شرارت اور پراپیگنڈہ کی وجہ سے اور اس وجہ سے کہ شام کی وزارت ایک بڑے مولوی کے لڑکے کے سپرد کی گئی جس کے پاس مولویوں کا وفد پہنچا کہ احمدی مبلغ کو دمشق سے نکال دیا جائے۔مولوی جلال الدین صاحب کو شام سے نکل جانے کے لئے ۲۴ گھنٹہ کا نوٹس دے دیا گیا اور اس میں انگریزی قنصل (COUNSEL) نے دخل دینے سے انکار کر دیا اور جو وجہ بیان کی وہ میرے نزدیک درست نہیں ہے اور مجھے شبہ ہے کہ رکن امور کی وجہ سے دخل نہیں دیا۔جب میں دمشق گیا تھا تب مجھے وہ باتیں معلوم ہوئی تھیں مگر گورنمنٹ پر چونکہ ان کی وجہ سے حرف آتا ہے اس لئے میں اس مجلس میں ان کا ذکر نہیں کرتا۔بہر حال جب مولوی صاحب کو نوٹس دیا گیا تو انھوں نے ایک تار مجھے بھیجا کہ اب کیا کرنا چاہئے اور ایک فرانسیسی گورنمنٹ کو کہ مُہلت دی جائے۔اگر چہ گورنمنٹ نے کوئی توجہ نہ کی مگر انھیں کسی طرح کچھ نہ کچھ وقت مل گیا۔اُس وقت اس خیال سے کہ وہاں تبلیغ بند نہ ہو جو عمدگی سے جاری ہو چکی ہے اور تھوڑے ہی عرصہ میں جس میں بہت کامیابی حاصل ہوئی ہے۔وہیں کے ایک مخلص نوجوان یہاں دین سیکھنے کے لئے آئے ہوئے ہیں اور مجھے وہاں کی جماعت کی طرف توجہ دلاتے رہتے ہیں ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ مولوی صاحب کو فلسطین میں رکھا جائے۔یہ وہ ملک ہے جو پہلے شام میں داخل تھا مگر جب شام پر فرانسیسیوں نے قبضہ کر لیا تو فلسطین انگریزوں نے لے لیا۔انھوں نے شام کا یہ حصہ علیحدہ کر کے اس لئے اپنے تصرف میں کر لیا کہ مصر کے قریب کوئی اور غیر حکومت نہ رہے۔ہم نے مولوی صاحب