خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 278 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 278

خطابات شوری جلد اوّل ۲۷۸ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء تھا۔تو سوالات سے بھی بعض اوقات فائدہ حاصل ہو جاتا ہے، چاہے ان پر لمبی بحث ہو یا نہ ہو۔یوں اگر بحث کو کھلا چھوڑ دیا جائے تو کبھی ختم ہی نہیں ہو سکتی اس لئے یہی مناسب ہے کہ سوالات کئے جائیں اور اگر کوئی بات رہ جائے تو وہ سوال کرنے والا پوچھ سکتا ہے۔دفاتر سے سوال دریافت کرنا پھر دفاتر کھلے ہوئے ہیں، ان سے جواب حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ہاں اگر کوئی دفتر کسی سوال کا جواب نہ دے تو پھر مجھ سے کہہ سکتے ہیں کہ فلاں دفتر نے ہمارے فلاں سوال کا جواب نہیں دیا۔اُس وقت میں دیکھوں گا کہ اُس سوال کا جواب دینا جماعت کے لئے مفید ہے یا نہیں۔اگر مفید ہوگا تو میں اُس دفتر کو مجبور کروں گا کہ جواب دے اور اگر جواب دینے سے کوئی فتنہ پیدا ہو یا اُس بات کو تحریر میں لانے سے کوئی شتر نکلتا ہو تو میں سوال کرنے والے کو لکھ دوں گا کہ میں نے اس بارے میں اپنی تسلی کر لی ہے اس کا جواب نہ دینا ہی مناسب ہے۔کیسے سوال دریافت کئے جائیں پھر میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ ایسے ضروری سوالات پوچھنے چاہئیں جن کا جماعت کے مفاد سے تعلق ہو، کوئی نئی بات حاصل ہوتی ہو ، کوئی فائدہ پہنچتا ہو، کوئی فتنہ دُور ہوتا ہو، ورنہ اگر یونہی سوالات شروع کر دیئے جائیں تو دفاتر کے عملے جو پہلے ہی بہت کم ہیں ان پر بے فائدہ کام کا بار بڑھ جائے گا۔انھیں کئی سالوں کے ریکارڈ تلاش کرنے پڑیں گے اور بہت سا وقت اس میں صرف ہو جائے گا۔نظارتوں کی رپورٹوں پر ریمارکس اس وقت نظارتوں کی جو رپورٹیں پڑھی گئی ہیں، میرے نزدیک عام طور پر سوائے ایک دواستثناء کے نہایت معقولیت اور محنت سے تیار کی گئی ہیں۔ان میں جو باتیں ناقص ہیں وہ ایسی تفصیلات ہیں جن میں پڑنا ضروری نہ تھا۔مثلاً یہ کہ ایک جماعت کے چندہ دہندگان اتنے تھے۔اگر ایک جماعت کے چندہ دہندگان کی تعداد سُنائی جائے تو باقی جماعتوں کے چندہ دہندگان کی کیوں نہ سُنائی جائے مگر ایسی تفصیلات کے بیان کرنے کی یہاں ضرورت نہ تھی۔اس قسم کی باتیں ناظر اعلیٰ کی رپورٹ میں بھی تھیں اور ناظر امور عامہ کی رپورٹ میں