خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 260 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 260

خطابات شوری جلد اوّل ۲۶۰ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء بڑی توندوں والے وہاں ہماری جوتیاں اُٹھانے کی خدمت حاصل کرنا بھی فخر سمجھیں گے مگر انہیں وہ بھی نہ ملے گی۔مگر یہ بھی ادنی نعمت سمجھتے ہیں۔اصل نعمت تو وہ ہوگی کہ وہ ہستی جس کا سب مال اور جان ہے اُس کا قرب حاصل ہو جائے گا۔یہ نعمت ہر وقت ہمارے مدنظر رہنی چاہئے۔ہمیں زندگی کے ہر شعبہ میں ترقی کرنے کی کوشش کرنی چاہئے لیکن اگر کوئی ترقی دین کو چھوڑ کر حاصل ہوتی ہے تو ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔ہم دین کو دنیا پر مقدم کریں گے اور ہر حالت میں مقدم کریں گے۔احباب یہ بھی دعا کریں کہ اس وقت تک خدمت دین میں ہم سے جو کوتاہی ہوئی ہے اسے خدا تعالیٰ معاف کر دے اور جو وعدے ہم نے خدمت دین کے لئے کئے ہیں انہیں پورا کرنے کی توفیق دے۔جو کام مسلمانوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے ہم شروع کرنے والے ہیں اس کے لئے احباب کو ۲۵ لاکھ کا ریز رو فنڈ جمع کرنے کی پوری پوری کوشش کرنی چاہئے۔میں اس کے متعلق بعض دوستوں کو خاص طور پر بھی توجہ دلاؤں گا۔اگر ہم مالی پہلو کی طرف سے مطمئن ہو جائیں تو پھر کسی دشمن کی ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہوسکتی۔کامیابی ہمارے ہی لئے ہے۔ہمارے مد نظر یہ بات رہنی چاہئے کہ کچھ رہے یا نہ رہے مگر خدا کا نام ضرور رہے اس کے لئے ۲۵ لاکھ جمع کرنا پہلا قدم ہے۔اگر ہماری جماعت ہمت کرے تو کوئی بڑی بات نہیں۔دیکھو سرسید جب کھڑے ہوئے تو نہ دینی روح کو لے کر ہوئے نہ ایمانی روح لیکن اُنہوں نے کالج قائم کر لیا جو آب یونیورسٹی ہے۔پھر اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خدام دین کی خاطر کھڑے ہوں گے تو انہیں کامیابی کیوں نہ ہوگی۔ہمارا مقصد دنیا حاصل کرنا نہیں بلکہ ازلی ابدی خدا کی وحدانیت قائم کرنا ہے۔دیکھو عارضی زندگی کی بیماریوں کے لئے لاکھوں روپے خرچ کر کے ہسپتال بنائے جاتے ہیں۔پھر وہ ہاسپٹل جس کا اثر ہمیشہ کی زندگی پر پڑتا ہے اُس کے لئے کیا کچھ نہیں کرنا چاہئے۔اس کے لئے جو کچھ کر سکتے ہو کر و۔اس طرح تم خدا تعالیٰ کا جلال اس دنیا میں بھی دیکھ لو گے اور اس دنیا سے نکل کر دوسری دنیا میں تمہارا عرفان اور بھی زیادہ بڑھ جائے گا۔یہ خوب اچھی طرح یاد رکھو جب تک خدا تعالی کی میٹھی اور شیر میں آواز کان