خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 218
خطابات شوری جلد اوّل ۲۱۸ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء انانیت اور میں کا بُت موجود ہو تو پھر ہم نے خدا تعالیٰ کی توحید کیا قائم کرنی ہے۔کیا کوئی مندر کا پجاری توحید قائم کر سکتا ہے؟ اگر ہمارے نفسوں میں میں باقی ہے تو ہم بھی کچھ نہیں کرسکیں گے۔پس جب تک ہمارے دل کے مندر میں ”میں“ کا بُت ہے ہم خدا تعالیٰ کی توحید نہیں قائم کر سکتے۔اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ لوگ کام کریں۔آج ہمارے سامنے جو ایجنڈا ہے اس کے مختلف عنوان کر دیئے گئے پیش نظر ایجنڈا انار ہیں۔کوشش یہ کرنی چاہئے کہ اس ایجنڈا کو کا نفرنس کے ایام میں ختم کر دیں۔پیچھے یہ دستور رہا ہے کہ جو ایجنڈا پیش ہوتا اُس کا اکثر حصہ باقی رہ جاتا اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ کئی دوست اس قسم کی مجالس کا تجربہ نہیں رکھتے۔وہ ایک معمولی سی بات پر بولتے جاتے اور عموماً وہی کہتے ہیں جو اُن سے پہلے کہہ چکتے ہیں۔بعض دفعہ دیکھا گیا ہے کہ دوست ایک بات کو دس دس مرتبہ دُہراتے جاتے ہیں۔چاہئے کہ ایسی باتوں میں وقت خرچ نہ کیا جائے اور ایجنڈ اختم کرنے کی کوشش کی جائے۔ان باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اب کے دو تجویز میں کی گئی ہیں۔ایک تو یہ دو تجویزیں کہ ہر سب کمیٹی کے لئے وقت مقرر کر دیا گیا ہے کہ اُس کے اندر اندر اس کا کام کرنا ہوگا۔دوسری یہ کہ آج تک یہ طریق رہا ہے کہ جب کوئی بات پیش ہو تو دوست فرداً فرداً بولنا شروع کر دیتے ہیں اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ دوسروں کو بولتا دیکھ کر خیال پیدا ہوتا ہے کہ ہم بھی اپنی رائے ظاہر کریں حالانکہ رائے اُس وقت ظاہر کرنی چاہئے جب ووٹ لئے جائیں۔اب تجویز کی گئی ہے کہ جب کوئی بات پیش ہو تو پوچھ لیا جائے کہ کون کون صاحب اس کے متعلق بولنا چاہتے ہیں۔اس پر جو اصحاب اُٹھیں اُن کو بولنے کا موقع دیا جائے اُن کے سوا کسی اور کو نہ دیا جائے کیونکہ بعض صرف دوسروں کو دیکھ کر اس رو میں بہہ جاتے ہیں۔اگر اُنہیں بولنے کی حقیقی خواہش ہوگی تو عام طور پر اُس وقت بولنے پر آمادگی ظاہر کریں گے جب معاملہ پیش ہوگا۔گو بعض اوقات بعد میں بھی بولنے کی ضرورت پیش آجاتی ہے۔اس طرح میں سمجھتا ہوں وقت بہت کچھ بچ جائے گا اور وقت کے اندر کام ختم ہو سکے گا۔