خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 217
خطابات شوری جلد اوّل ۲۱۷ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء نفس کو مٹانے والے کی قربانی اس کے مقابلہ میں ہم حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو دیکھتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں ابو بکر کو اُس چیز کی وجہ سے فضیلت حاصل ہے جو اس کے دل میں ہے اور میں دل میں ہی ہوتی ہے۔مطلب یہ کہ انہوں نے اپنے نفس کو مٹا دیا اور میں کو مار دیا اس لئے خدا کے حضور قبول کئے گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قربانی اس وقت ہی دیکھ لو اسے پیر موجود ہیں جو دن کو روزہ رکھتے اور رات کو جاگ کر عبادت کرتے ہیں، چھ چھ ماہ روزے رکھتے ہیں۔صرف جو کے چند کچے دانے اور چلو بھر پانی پیتے ہیں، دُنیا سے علیحدہ رہتے ہیں مگر باوجود اس کے وہ خدا کے حضور قبول نہ ہوئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام قبول ہو گئے کیونکہ وہ پیر گو بظا ہر نفس کشی کر رہے ہوتے ہیں لیکن دراصل ان کی ”میں موٹی ہو رہی ہے۔ان کے دل میں یہ خواہش ہوتی ہے کہ ہم کچھ بن جائیں ، ان کی قربانیاں اپنے نفس کے لئے ہوتی ہیں اس لئے جتنی وہ کوشش کرتے ہیں اُتنے ہی محروم رہتے ہیں۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام با وجود اتنے روزے نہ رکھنے اور نہ دُنیا سے علیحدہ رہنے کے قبول کر لئے گئے کیونکہ آپ نے ”میں“ کو قربان کر ڈالا تھا۔انانیت کی قربانی پس سب سے بڑی چیز جس کی قربانی ضروری ہے وہ انانیت ہے۔انا نیت کو اس طرح مٹا ڈالنا چاہئے کہ کبھی آواز نہ اُٹھے کہ خدا کے مقابلہ میں یہ بات میں ماننے کے لئے تیار نہیں ہوں میں فلاں بات اس لئے نہیں مانتا کہ میری مرضی نہیں۔ورنہ خواہ کوئی کتنے سجدے کرے اور کس قدر ناک رگڑے اگر انانیت کو نہیں چھوڑتا تو خدا تعالی کی درگاہ سے اُسی طرح دور پھینک دیا جاتا ہے جس طرح آبادی سے دُور مُردہ گتا۔ہمارا نقطہ نظر پس احباب اپنے مشوروں میں یہ بات مد نظر رکھیں کہ میں اور انا نیت کو معا دینا ہے۔ہمارا ایک ہی نقطہ نظر ہے کہ خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت ہو اور ہمارا مدعا اور مقصد یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی توحید قائم ہو لیکن اگر ہمارے دل میں