خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 193
خطابات شوری جلد اوّل ۱۹۳ مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء ہوں۔سیکرٹری مجلس مشاورت نے ایک جواب دیا ہے مگر وہ وقت کی ضرورت کو ٹلانے کے لئے دل میں پیدا ہوا ہے اصل جواب نہیں ہے۔ہمارا اساس عمل یہ ہے کہ تمام کاموں کا ذمہ دار خلیفہ ہوتا ہے۔وہ آگے چند لوگوں کے سپرد کام کرتا ہے جسے نظارت کہنا چاہئے۔اب اس کا نام صدر انجمن ہے۔یہی وجہ ہے کہ مجلس شوری خلیفہ کا پرائیویٹ سیکرٹری طلب کرتا ہے۔صدرانجمن چونکہ خود کاموں کے متعلق جواب دہ ہے اس لئے یہ مناسب نہیں سمجھا گیا کہ وہ اس مجلس مشاورت کو طلب کرے جس کا کام قانون وضع کرنے کے لئے مشورہ دینا ہے۔چونکہ شریعت اسلامیہ نے تسلیم کیا ہے کہ خلیفہ تمام کاموں کا ذمہ دار ہے اس لئے مجلس مشاورت میں وہ امور ہوتے ہیں جن کو اس سال کے لئے خلیفہ ضروری سمجھتا ہے اور چونکہ اس کام کے لئے صرف ایک دن ہوتا ہے اور ایک دن سب کمیٹیاں اپنا کام کرتی ہیں اس لئے چھ سات سوال ہی لئے جاتے ہیں۔جو سوال آتے ہیں ان میں ضروری اور اہم منتخب کر لئے جاتے ہیں۔یہ انتخاب خلیفہ کی طرف سے ہوتا ہے اس میں کسی نظارت کا تعلق نہیں ہوتا چونکہ دوستوں کو ابھی تجربہ نہیں اس لئے بعض سوال ایسے لکھ دیتے ہیں جن کا تعلق صرف ناظروں سے ہوتا ہے مجلس شوری سے نہیں ہوتا اس لئے وہ ناظروں کے پاس بھیج دیئے جاتے ہیں اور جو مجلس سے تعلق رکھتے ہیں ان کو مجلس کے لئے رکھ دیا جاتا ہے مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ لوگوں سے کہا جائے کہ وہ سوالات پیش کریں۔میں اس کے خلاف ہوں۔میں گورنمنٹ سے بھی جب خط وکتابت کرتا ہوں تو اس پر زور دیتا ہوں کہ لوگوں میں خود تقاضے پیدا کرنا اور کسی بات کے متعلق ایجی ٹیشن کا انتظار کرنا یہ درست نہیں ہے خود بخود جو سوال پیدا ہوتے ہیں وہ یہاں آتے رہتے ہیں۔اس سال ایک جگہ کے نمائندے نے سوال بھیجے تھے کہ ایجنڈا میں شامل کئے جائیں مگر اکثر ان میں ایسے تھے جو ناظروں سے تعلق رکھتے تھے اس لئے اُن کے دفاتر میں چلے گئے۔ایک اور دوست یعنی خان صاحب فرزند علی صاحب نے ایک امر کے متعلق یاد دلایا اور وہ پیش ہے کہ احمدیوں کے پسماندگان کا کوئی انتظام ہونا چاہئے تا کہ وہ آوارہ نہ ہوں۔پس اگر اساس کے متعلق کسی کے دل میں کوئی تجویز پیدا ہو تو اسے خلیفہ کے سامنے پیش کرنا چاہئے۔خلیفہ اگر اسے اساس کے متعلق سمجھے گا اور اس کے متعلق مشورہ کی ضرورت ہوگی تو شوریٰ میں پیش کر دی جائے گی اور اگر