خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 158
خطابات شوریٰ جلد اوّل ۱۵۸ مشاورت ۱۹۲۵ء گیا ہے جو اچھی ترقی کر رہا ہے۔اس میں ایک مضمون میں بھی پڑھاتا ہوں۔اس مضمون کا نام تو جغرافیہ ہے مگر دراصل وہ ایک علمی لیکچر ہوتا ہے۔علم الارض۔علم الحیات کے مسائل اس میں بتائے جاتے ہیں۔اسی طرح قدیم تاریخی اور اسلامی تاریخ پڑھائی جاتی ہے۔اس وقت تک انتیس طالبات ہیں جنہیں چکیں ڈال کر مرد پڑھاتے ہیں۔اس کام میں جو کامیابی ہو رہی ہے اس سے امید ہو سکتی ہے کہ انشاء اللہ اچھے نتائج نکلیں گے۔بیرونجات میں بھی احباب کو اس طرف توجہ کرنی چاہئے کیونکہ عورتوں کی تعلیم کے بغیر ترقی نہیں ہوسکتی۔ایک دفعہ یہاں ڈپٹی کمشنر صاحب آئے اُن کے ساتھ اُن کی بیوی بھی تھی۔انہوں نے کہا میری بیوی یہاں کی عورتوں سے ملنا چاہتی ہے۔ناظر صاحب امور عامہ نے کہہ تو دیا کہ انتظام کرتا ہوں مگر ان کی کوشش یہی تھی کہ کسی طرح یہ بات ٹل جائے کیونکہ ہماری مستورات کو ابھی ملنے کا طریق نہیں آتا۔آخر انہوں نے یہ بات پیش کی کہ گرلز سکول کا معائنہ کیا جائے اس طرح بات ٹل گئی۔تو آداب مجالس دوسروں کے ساتھ ملنے سے آتے ہیں مگر یہاں یہ مشکل ہے کہ دیگر عورتوں سے ملنے کا موقع نہیں ملتا اس لئے اس بارے میں عورتوں کی حالت بہت کمزور ہے۔پس عورتوں کی تعلیم کی طرف خاص طور پر توجہ کرنی چاہئے۔تبلیغ احمدیت اب میں تبلیغ اور چندہ دونوں سوالوں کو اکٹھا لیتا ہوں۔میں نے دیکھا ہے موجودہ تبلیغی حالت بہت کمزور ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ پچھلے چند سالوں میں جماعت کی توجہ چند اور اُمور نے اپنی طرف کھینچے رکھی ہے۔مثلاً ملکانوں کا ارتداد، یورپ کی تبلیغ وغیرہ۔پھر جماعت کے متعلق سٹڈی بھی کی جاتی رہی ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پچھلی کھا د جو ڈالی گئی تھی وہ ختم ہو گئی اور آئندہ کے لئے پیداوار بند ہوگئی اور اب سالانہ بیعت کرنے والوں میں بہت کمی ہو گئی ہے۔دو تین ہزار کے درمیان سال میں بیعت کرتے ہیں۔اگر یہی رفتار رہی تو سمجھ لو کہ کتنے عرصہ میں احمدیت دنیا میں پھیل سکے گی۔عام انبیاء کی جماعتوں کی جوانی کی عمر سو ڈیڑھ سو سال تک ہوتی ہے پھر بُڑھاپا شروع ہو جاتا ہے اس لئے ہمیں ایسے رنگ میں تبلیغ کو جاری رکھنا چاہئے کہ جلد خاطر خواہ نتیجہ نکل سکے۔میں نے اس صیغہ کو اس طرف متوجہ کیا ہے۔احباب کو بھی چاہئے کہ گھروں