خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 157

خطابات شوریٰ جلد اوّل ۱۵۷ مشاورت ۱۹۲۵ء اختتامی تقریر مجلس مشاورت کی کارروائی مکمل ہونے پر حضور نے احباب جماعت کو اپنے اختتامی خطاب سے نوازا۔جماعت کی ترقی کے سلسلہ میں بعض اہم امور کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضور نے فرمایا :- نظارتوں کی اہمیت ”ہمارے دوستوں نے ناظروں کی رپورٹیں سُنی ہیں جن کے سُننے کے بعد اتنا مصالحہ ان کے ہاتھ آ گیا ہے کہ وہ سمجھ سکتے ہیں نظارتوں کا کتنا اہم کام ہے اور کس طرح بڑھ رہا ہے۔پھر نظارتیں بیرونی جماعتوں سے جو خط وکتابت کرتی ہیں اُس سے بھی احباب سمجھ سکتے ہیں کہ نظارتوں کی کس قدر ضرورت ہے۔ہم پر اُس وقت اعتراض کیا گیا تھا جب میں نے نظارتیں قائم کی تھیں کہ اس طرح خرچ بہت بڑھ گیا ہے مگر میں نے اُس وقت دیکھ لیا تھا کہ جماعت کی حالت تربیت وغیرہ کے لحاظ سے گر رہی ہے اور اگر نظارتیں نہ قائم ہوتیں تو بالکل گر جاتی۔موجودہ حالت میں نظارتوں پر جو خرچ ہو رہا ہے وہ بیرونی معاملات کے اخراجات کی نسبت زیادہ ہے لیکن ابتداء میں ہمیشہ مرکزی امور پر زیادہ خرچ ہوا کرتا ہے۔اس وقت ہم یہ تو کر سکتے ہیں کہ اعضاء کو زیادہ نہ بڑھنے دیں اگر روپیہ نہ ہو لیکن یہ نہیں کر سکتے کہ مرکز کو مضبوط نہ کریں کیونکہ مرکز بطور دماغ کے ہوتا ہے اور اگر دماغ کی حفاظت نہ کی جائے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے۔دیکھو اگر چھوٹے بچہ کو دیکھا جائے تو اس کے سر کا وزن بہ نسبت اُس کے سارے جسم کے زیادہ ہوتا ہے لیکن ایک جوان کے سر کو اس کے جسم سے کوئی نسبت نہیں ہوتی۔وجہ یہ کہ بچپن میں دماغ کی حفاظت کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے لیکن جب جسم بڑھتا گیا تو دماغ اصلی حالت پر آ گیا۔اسی طرح ہماری حالت ہے۔وہ وقت آئے گا جب باہر مبلغ بہت زیادہ ہوں گے، بڑے بڑے دفاتر ہوں گے، دوسرے انتظامات ہوں گے اُس وقت نظارتوں پر خرچ کم ہوگا اور بیرونی کاموں پر زیادہ ہو گا لیکن موجودہ صورت میں دماغ یعنی مرکز کو مضبوط کرنا زیادہ ضروری ہے اس لئے اس پر خرچ زیادہ ہو رہا ہے۔ایک تو یہ بات ہے جس کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں مستورات کی تعلیم و تربیت دوسری بات عورتوں کی تعلیم کا سوال ہے۔مرکز میں مستورات کی اعلیٰ تعلیم کے لئے الگ مدرسہ جاری کیا