خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 153
خطابات شوریٰ جلد اوّل ۱۵۳ مشاورت ۱۹۲۵ء کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر شاہ نواز صاحب نے ان کی بجائے کم تنخواہ پر اپنے آپ کو پیش کیا تھا۔ڈاکٹر شاہ نواز خلص نوجوان ہیں اور میں سمجھتا ہوں ایسے موقع پر وہ اپنے آپ کو پیش کرنے کے لئے تیار نہ ہوں گے اور سمجھیں گے کہ جس نے اس موقع پر ان کا نام لیا ہے وہ ان کا دوست نہیں۔ناظر امور عامہ کا سفر خرچ ایک سوال ناظر امور عامہ کے سفر خرچ کے متعلق کیا گیا ہے۔اگر لمبا سفر ہو تو زیادہ خرچ ہو سکتا ہے۔اس میں اعتراض کی کون سی بات ہے۔ناظر امور عامہ کے گھٹنے میں درد رہتا ہے اور وہ کوشش کرتے ہیں کہ سفر میں نہ جانا پڑے اور یہ ہمیں ان سے شکوہ رہتا ہے کہ وہ سفر سے بچنا چاہتے ہیں۔پچھلے سال انہیں سفر یورپ کے متعلق سہولتیں پیدا کرنے اور دوسرے ضروری کاموں کے لئے سفر کرنے پڑے۔جن میں ۲۳۵ روپے ۲ آنے خرچ ہوا۔اس میں ولایت جانے والے وفد کے پاسپورٹوں کا خرچ اور ان لوگوں کے گورداسپور آنے جانے کا خرچ بھی شامل ہے۔کیا یہ ناجائز سفر تھے ؟ کیا سفر ولایت کو مفید بنانے یا اور ضروری کاموں کے لئے سفر نہ کئے جاتے ؟ یورپین نرس کے متعلق سوال ایک سوال نرس کے متعلق کیا گیا ہے۔وہ یورپین عورت ہے جو مسلمان ہو چکی ہے اور اسلامی شعار کی پابندی کرنے کی کوشش کرتی ہے بُرقعہ پہنتی ہے۔ایک دن وہ میرے پاس آ کر رو پڑی کہ مجھ سے بُرقعہ نہیں پہنا جاتا کیونکہ یہ اس کے لئے ایک سخت پابندی ہے مگر پھر بھی وہ پہنتی ہے۔ایسی عورت کی جو یورپین عورتوں کے لئے بطور نمونہ ہو سکتی ہے مؤلّفةُ القُلوب کے طور پر امداد کرنا ضروری ہے اس پر اعتراض کیا ہوسکتا ہے۔وہ یورپ کی قوموں سے تعلق رکھنے والی ہے جو پردہ کی سخت دشمن ہیں۔اس سے ہم شفاخانہ میں کام کراتے اور تنخواہ دیتے ہیں۔اگر یہ بد دیانتی ہے تو کیا دیانتداری یہ ہوتی کہ اسے فاقے مارتے اور کوئی امداد نہ کرتے ؟ میں کہتا ہوں اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مؤلفۃ القلوب کے طور پر مکہ کے لوگوں کو جانوروں کے گلے ( ریوڑ ) دیگر مجرم نہیں ہوئے تھے تو ہم ایک یورپین عورت سے جو اسلامی شعار کی پابند ہے، کام کرا کر ساٹھ روپے تنخواہ دینے سے کیونکر مجرم ہو گئے !!