خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 152

خطابات شوری جلد اوّل ۱۵۲ مشاورت ۱۹۲۵ء کہ یہ اس وقت ایمان لائے تھے جب لوگ حضرت مسیح موعود کو کافر کہتے تھے بلکہ وہ دیکھیں گے کہ ڈاکٹر صاحب کی لڑکی مجھ سے بیاہی ہوئی ہے۔میں نے ان دوستوں سے کہا میں اس امر میں تمہارے ساتھ متفق نہیں ہوں مگر انہوں نے پھر زور دیا۔اس پر میں نے کہا سب اکٹھے مل کر حلفیہ یہ لکھ کر دو کہ اس بارے میں اشارتاً یا کنایتاً میں نے تم سے کچھ نہیں کہا تا کہ میری عزت محفوظ ہو جائے۔چنانچہ اُنہوں نے حلفیہ یہ لکھ کر دیا کہ میں نے اُن سے اشارتاً یا کنایتاً بھی اس بارے میں کچھ نہیں کہا۔اور ڈاکٹر صاحب کو یہاں رکھ لینے کی تجویز ان کی اپنی ہی ہے اور ضرورت بھی فی الواقعہ ان کی ہے۔صرف یہاں رکھنے کے لئے یہ کام نہیں نکال لیا گیا۔پھر میں نے پوچھا ڈاکٹر صاحب کام کیا کریں گے؟ کہا گیا سیکرٹری ص انجمن کا کام کریں جو پہلے بھی کرتے رہے ہیں۔میں نے کہا میں انہیں اس قابل نہیں سمجھتا کیونکہ یہ بہت بوڑھے ہو گئے ہیں۔تب انہوں نے کہا انہیں انچارج شفاخانہ مقرر کیا جائے یہ ان کے رکھنے کا واقعہ ہے۔میں سمجھتا ہوں شفا خانہ میں آدمی زیادہ ہیں مگر اس وجہ سے کہ ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب نے اس کو بنایا ہے اور وہ گویا اس کے باپ ہیں ان کی ناقدری صدر نہیں کی جاسکتی اور ڈاکٹر عبداللہ صاحب بھی بہت پرانے کام کرنے والے ہیں۔یہ وہ حالات ہیں جو ڈاکٹر صاحب کے رکھنے کے متعلق ہیں۔میں سائل کی اس بات سے متفق ہوں کہ کم آدمی بھی شفا خانہ میں کام کر سکتے ہیں لیکن اگر زیادہ کام کرنے والے ہوں تو ارد گرد کے علاقہ پر ہم بہ آسانی قبضہ کر سکتے ہیں اور شفاخانہ اور مدرسہ جس قدر مضافات کے متعلق سیاسی کام کر رہا ہے، وہ بہت بڑا ہے۔ڈاکٹر صاحب سابقون میں سے ہیں۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے سب سابقون رشتہ دار تھے اور آپ اُن کی خاص طور پر قدر کرتے تھے۔ایک دفعہ حضرت ابو بکر سے کسی کی لڑائی ہوئی تو آپ نے فرمایا کیا تم لوگ مجھے اور ابوبکر کو نہیں چھوڑتے۔اس نے مجھے اُس وقت مانا جب تم کافر کہتے تھے۔ڈاکٹر صاحب پُرانے آدمیوں میں سے ہیں، ان کے والد مشہور آدمی تھے جو اسلامیہ کالج لاہور کے بانیوں میں سے تھے۔ڈاکٹر صاحب نے طالب علمی کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کی اور پھر سلسلہ کی مالی خدمت اس قدر کی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کو لکھا اب آپ کو اور دینے کی ضرورت نہیں۔