خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 131
خطابات شوری جلد اوّل ۱۳۱ مشاورت ۱۹۲۵ء اگر وہ ایماندار ہے تو نادانی سے کرتا ہے ورنہ وہ جماعت کا دشمن اور تباہی کی کوشش کرنے والا ہے۔سلسلہ کے موجودہ کارکن وہ دوست جو اس وقت باہر سے تشریف لائے ہیں اگر اُن کو مرکز میں کام کرنے کا موقع ملے تو انہیں معلوم ہو کہ کیسی حالت ہے۔اگر انہیں وہ تحریریں جن میں میں ناظروں اور دوسرے کارکنوں کی خبر لیتا ہوں پڑھنے کا موقع ملے تو وہ تسلیم کر لیں کہ موجودہ کا رکن جس طرح کام کر رہے ہیں اس طرح وہ خود نہ کر سکیں۔إِلَّا مَا شَاءَ اللہ۔ہر ایک آدمی دفاتر کے کاغذات سے یہ بات معلوم کر سکتا ہے کہ تمدن کے لحاظ سے کوئی حقیر سے حقیر اور ادنے سے ادنئے آدمی بھی ایسا نہیں ہو گا جس نے کوئی شکایت کی ہو اور میں نے اُس شکایت کی طرف توجہ نہ کی ہو اور اگر وہ حق پر ہو تو جس کے خلاف اس کی شکایت تھی اُس سے سختی کے ساتھ باز پرس نہ کی ہو۔ایک طالب علم تھا جس کا ایک صیغہ کے ناظر سے کچھ مطالبہ تھا میں نے اسے جرمانہ کر کے دلا دیا۔کسی نقص کی اصلاح کا طریق پس اگر کسی کو کوئی نقص اور خرابی معلوم ہو تو اس کی اصلاح کا یہ طریق نہیں ہے کہ مجلس شوری میں سوالات کئے جائیں بلکہ یہ ہے کہ اسے میرے سامنے پیش کیا جائے گو پھر اگر اس کی طرف توجہ نہ کی جائے اور اس کی اصلاح کی کوشش نہ کی جائے تو گو پھر اُس کے بس کی بات نہیں اور مجلس مشاورت میں پیش کرنے کے بعد بھی بس کی نہیں ، مگر اُس وقت شکوہ پیدا ہو سکتا ہے۔اگر چہ اُس وقت اُسے یہ سمجھ لینا چاہئے کہ شاید میری ہی غلطی ہو اور میں ہی ناراستی پر ہوں۔مگر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ میں خدا نہیں ہوں۔مجھ سے بھی غلطی ہوسکتی ہے اور میں بھی ایک بات کو غلط رنگ میں سمجھ سکتا ہوں۔سوالات کرنے کی غرض سوالات کرنے کی دو غرضیں ہوا کرتیں ہیں۔اوّل کسی معاملہ کے متعلق صحیح علم حاصل کرنا۔دوم دوسرے کی تذلیل کرنا اور دونوں غرضوں کو مد نظر رکھ کر کونسلوں اور پارلیمنوں میں سوال کئے جاتے ہیں۔یا تو اس لئے سوال کئے جاتے ہیں کہ علم زیادہ حاصل ہو یا اس لئے کہ مخالف پارٹی ذلیل ہو اور اُس کی بجائے ہماری پارٹی حکمران بن جائے۔ان دونوں غرضوں میں سے دوسری