خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 130
خطابات شوریٰ جلد اوّل ۱۳۰ مشاورت ۱۹۲۵ء سے اس میں وہ مسائل نہیں آنے چاہئیں جو انتظام کی تفصیلات سے تعلق رکھتے ہیں۔انتظامی امور کے متعلق سوالات میں اس امر کا قائل نہیں کہ انتظامی تفصیلات ایک خاص طبقہ سے وابستہ ہیں اور ان میں دخل دینا اُسی طبقہ کا کام ہے مگر میں اس کا بھی قائل نہیں کہ ہر وقت اور ہر موقع پر دخل دینا جائز ہے۔کسی نے کہا ہے ہر سخنے وقتے و ہر نکتہ مقامی دارد موقع شناسی انسان کی عقلمندی کی علامت بھی یہ ہے کہ وہ وقت اور موقع پہچانتا ہے۔ایک ہی بات ہوتی ہے اگر وہ اپنے موقع پر کی جائے تو بہت اعلیٰ ہوتی ہے اور اگر وہی بات بے موقع کی جائے تو بہت بُری بن جاتی ہے۔دُنیا میں جتنے کام ہیں ان میں موقع شناسی ہی ایک ایسی بات ہے جس سے حسن اور خوبصورتی ظاہر ہوتی ہے۔دیکھو آنکھیں کیسی خوبصورت معلوم ہوتی ہیں ، ناک کس طرح چہرہ پر زیبا نظر آتی ہے، کان کیسے اچھے معلوم ہوتے ہیں مگر ان کے موقعے بدل دو۔کان کندھے پر لگا دو، ناک ماتھے پر رکھ دو تو گینڈے کی شکل بن جائے گی۔یہی دیکھو یہ چیزیں جو اس میز پر پڑی ہیں اس لئے خوبصورت دکھائی دے رہی ہیں کہ سجی ہوئی ہیں۔اگر ان گملوں کو الٹا کر کے رکھ دو تو کیسے بُرے معلوم ہوں گے۔لکھا ہے مرزا مظہر جان جاناں کے پاس ایک دفعہ بادشاہ آیا وزیر بھی ساتھ تھا۔اُسے پیاس لگی۔پاس جھجری اور آب خورہ رکھے تھے۔اُس نے آب خورہ لیا اور جھجری سے پانی پی کر اس پر اُسی طرح اُلٹا کر رکھ دیا جس طرح پہلے رکھا تھا مگر کسی قدر ٹیڑھا۔مظہر جان جاناں نے کہا یہ کیسا وزیر ہے جسے آبخورہ بھی رکھنا نہیں آتا۔یہ تو ان کی طبع کی نزاکت کا حال ہے۔مگر بات یہ بالکل سچی ہے کہ اگر موقع اور محل کو مد نظر نہ رکھا جائے تو اعلیٰ سے اعلیٰ بات اور چیز بھی بہت بُری بن جاتی ہے۔سلسلہ کے کاموں میں دخل دینے کا حق میرے نزدیک ہر آدمی کا حق ہے کہ سلسلہ کے کاموں میں دخل دے۔مگر کسی کا بھی یہ حق نہیں کہ بے موقع اور ایسے رنگ میں کہ بھائی بھائی کے مقابلہ میں اور قوم قوم کے مقابلہ میں کھڑی ہو جائے دخل دے۔اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ