خطابات — Page 89
89 تبلیغ اور اس کے دلائل سے بے نصیب رہا ہو اتھا بلکہ دُور دُورملکوں کے گوشوں میں تو ایسی بے خبری تھی کہ گویا وہ لوگ اسلام کے نام سے بھی ناواقف تھے۔غرض آیت موصوفہ بالا میں جو فر مایا گیا تھا کہ اے زمین کے باشندو ! میں تم سب کی طرف رسول ہوں ، عملی طور پر اس آیت کے مطابق تمام دنیا کو ان دنوں سے پہلے ہر گز تبلیغ نہیں ہو سکی اور نہ اتمام حجت ہوا کیونکہ وسائل اشاعت موجود نہیں تھے اور نیز زبانوں کی اجنبیت سخت روک تھی۔اور نیز یہ کہ دلائل حقانیت اسلام کی واقعیت اس پر موقوف تھی کہ اسلامی ہدایتیں غیر زبانوں میں ترجمہ ہوں اور یا وہ لوگ خود اسلام کی زبان سے واقفیت پیدا کر لیں اور یہ دونوں امر اُس وقت غیر ممکن تھے۔لیکن قرآن شریف کا یہ فرمانا کہ وَمَنْ بَلَعَ یہ امید دلاتا تھا کہ ابھی اور بہت سے لوگ ہیں جو ابھی تبلیغ قرآنی اُن تک نہیں پہنچی۔ایسا ہی آیت وَاخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ اس بات کو صلى الله ظاہر کر رہی تھی کہ گو آنحضرت ﷺ کی حیات میں ہدایت کا ذخیرہ کامل ہو گیا مگر ابھی اشاعت ناقص ہے۔اور اس آیت میں جو مِنْهُمْ کا لفظ ہے وہ ظاہر کر رہا تھا کہ ایک شخص اُس زمانہ میں جو تکمیلِ اشاعت کے لئے موزوں ہے مبعوث ہوگا جو آنحضرت ﷺ کے رنگ میں ہوگا اور اس کے دوست مخلص صحابہ کے رنگ میں ہوں اس وقت حسب منطوق آیت وَ اخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ اور نیز حسب منطوق آیت قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُوْلُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيْعًا کے دوسرے بعث کی ضرورت ہوئی اور ان تمام خادموں نے جو گے۔صل الله سورۃ الانعام - آیت 20 سورۃ الجمعۃ۔آیت 4 سورۃ الاعراف۔آیت 159