خطابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 88 of 110

خطابات — Page 88

88 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے متعدد الہامات میں ذکر فرمایا ہے اس لئے وہ شریعت جو آنحضرت ﷺ تمام دنیا کے لئے لے کر آئے تھے وہ مسیح موعود کے غلاموں کے ذریعہ دنیا کے کونہ کونہ میں کامیابی سے پھیل رہی ہے۔دو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں: اس وقت کے تمام مخالف مولویوں کوضرور یہ بات ماننی پڑے گی کہ چونکہ آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء تھے اور آپ کی شریعت تمام دنیا کے لئے عام تھی۔اور آپ کی نسبت فرمایا گیا تھا: وَلَكِنْ رَّسُوْلَ اللهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ اور نیز آپ کو یہ خطاب عطا ہوا تھا : قل يأيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُوْلُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيْعًا۔سواگر چہ آنحضرت ﷺ کے عہد حیات میں وہ تمام متفرق ہدایتیں جو حضرت آدم سے حضرت عیسی تک تھیں، قرآن شریف میں جمع کی گئیں لیکن مضمون آیت قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيْعًا آنحضرت ﷺ کی زندگی میں عملی طور پر پورا نہیں ہوسکا کیونکہ کامل اشاعت اس پر موقوف تھی کہ تمام ممالک مخالفہ یعنی ایشیا اور یورپ اور افریقہ اور امریکہ اور آبادی دنیا کے انتہائی گوشوں تک آنحضرت ﷺ کی زندگی میں ہی تبلیغ قرآن ہو جاتی اور یہ اس وقت غیر ممکن تھا بلکہ اس وقت تک تو دنیا کی کئی آبادیوں کا ابھی پتہ بھی نہیں لگا تھا اور دور دراز سفروں کے ذرائع ایسے مشکل تھے کہ گویا معدوم تھے۔بلکہ اگر وہ ساٹھ برس الگ کر دیئے جائیں جو اس عاجز کی عمر کے ہیں تو 7 125 ہجری تک بھی اشاعت کے وسائل کاملہ گویا کا لعدم تھے۔اور اس زمانہ تک امریکہ کل اور یورپ کا اکثر حصہ قرآنی 1 ٣،٢ سورۃ الاحزاب۔آیت 41 سورۃ الاعراف۔آیت 159