خطابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 15 of 110

خطابات — Page 15

15 بلکہ آئندہ کوئی مسلم یا غیر مسلم مورخ تاریخ ہند یا تاریخ اسلام ان کا نام تک نہ لئے“ لے لیکن آج تاریخ احمدیت گواہ ہے۔دنیا جانتی ہے کہ ان کا نام لیوا تو کوئی نہیں لیکن خلافت کی برکت سے احمدیت دنیا میں پھول پھل رہی ہے اور کروڑوں اس کے نام لیوا ہیں۔اپنی بیہودہ گوئیوں میں یہاں تک بڑھے کہ ایک اخبار’ کرزن گزٹ ( دہلی ) نے لکھا جسے حضرت خلیفہ امسیح الاول رضی اللہ عنہ نے اپنی پہلی جلسہ کی تقریر میں بیان کیا کہ : وو اب مرزائیوں میں کیا رہ گیا ہے۔ان کا سرکٹ چکا ہے۔ایک شخص جو ان کا امام بنا ہے اس سے تو کچھ ہو گا نہیں۔ہاں یہ ہے کہ وہ تمہیں کسی مسجد میں قرآن سنایا کرے۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے فرمایا سبحان اللہ یہی تو کام ہے۔خدا توفیق دے۔بدقسمتی سے جماعت کے بعض سرکردہ بھی خلافت کے مقام کو نہ سمجھے۔سازشیں ہوتی رہیں لیکن خدا کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا بڑھتارہا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے مطابق محبوں کی جماعت بڑھتی رہی اور کوئی نقصان پہنچانے کی کوشش کارگر نہ ہوئی۔پھر خلافت ثانیہ کا دور آیا تو بعض سرکردہ انجمن کے ممبران کھل کر مخالفت پر کمر بستہ ہو گئے لیکن وہ تمام سرکردہ علم کے زعم سے بھرے ہوئے ، تجربہ کار پڑھے لکھے اخبار وکیل امرتسر۔13 جون 1908ء۔بحوالہ الحکم نمبر 39 جلد 12 - 18 جون 1908 ، صفحہ 8 کالم 1 و تاریخ احمدیت مؤلفہ مولانا دوست محمد شاہد۔جلد 3 صفحہ 205 206۔مطبوعہ 2007ء - نظارت نشر واشاعت قادیان، بھارت بدر نمبر 10 جلد 8 - 7 جنوری 1909 ، صفحہ 5 کالم 1-2 و تاریخ احمدیت مؤلفہ مولا نا دوست محمد شاہد جلد 3۔صفحہ 221۔مطبوعہ 2007ء۔نظارت نشر و اشاعت قادیان، بھارت