خطابات — Page 103
103 ایک خاص تعلق، ایک خاص چمک چہروں اور آنکھوں میں نظر آ رہی ہوتی ہے اور یہ صرف اس لئے ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بیعت اور وفا کا تعلق، سچا تعلق ہے اور یہ صرف اس لئے ہے کہ آنحضرت عیہ سے کامل اطاعت اور محبت کا تعلق ہے اور یہ اس لئے ہے کہ اس بات کا مکمل فہم وادراک ہے کہ آنحضرت ﷺ صلى الله صلى الله ہی ہیں جو کل انسانیت کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے نجات دہندہ بنا کر بھیجے گئے اور خلافت احمد یہ آپ تک لے جانے کی ایک کڑی ہے۔اس وحدت کی نشانی ہے جو خدائے واحد کے قدموں میں ڈالنے کے لئے ہمہ وقت مصروف ہے۔پس کیا کبھی ایسی قوم کو ایسے جذبات رکھنے والی روحوں کو، کوئی قوم شکست دے سکتی ہے۔کبھی نہیں اور کبھی نہیں۔اب جماعت احمدیہ کا مقدر کا میابیوں کی منازل کو طے کرتے چلے جانا ہے اور تمام دنیا کو آنحضرت ﷺ کے جھنڈے تلے جمع کرنا ہے۔یہ اس زمانہ کے امام سے خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے جو کبھی اپنے وعدوں کو جھوٹا نہیں ہونے دیتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: وو الله یہ سلسلہ زور سے بڑھے گا۔اور پھولے گا یہاں تک کہ زمین پر محیط ہو جاوے گا۔بہت سی روکیں پیدا ہوں گی اور ابتلا آئیں گے مگر خدا سب کو درمیان سے اُٹھا دے گا۔اور اپنے وعدہ کو پورا کرے گا۔اور خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں تجھے برکت پر برکت دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔( عالم کشف میں مجھے وہ بادشاہ دکھلائے گئے جوگھوڑوں پر سوار تھے اور کہا گیا کہ یہ ہیں جو اپنی گردنوں پر تیری اطاعت کا بڑااٹھا ئیں گے اور خدا انہیں برکت دے گا۔منہ ) سواے سننے والو! ان باتوں کو یا درکھو۔اور ان پیش خبریوں کو اپنے صندوقوں میں محفوظ