خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 6
خطابات طاہر جلد دوم 6 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۲ء حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارہ میں سیرت ابن ہشام میں آتا ہے بہت سیچے مسلمان اور پاک دل انسان تھے۔ابو جہل کی طرح اُمیہ بن خلف بھی آپ کو باہر لے جاتا جس وقت دو پہر کی چلچلاتی دھوپ میں ریت خوب گرم ہو جاتی تو پیٹھ کے بل آپ کو مکہ کی سنگریزہ زمین پر لٹا دیتا تھا پھر کسی کو حکم دیتا کہ بڑا سا پتھر اٹھا کے لاؤ۔وہ پتھر آپ کے سینے پر رکھ دیتا۔پھر آپ سے کہتا تو اسی حالت میں رہے گا یہاں تک کہ تو مر جائے یا محمد کا انکار کر دے مگر آپ اُس حال میں بھی یہی کہتے احد احد، احد احد۔اس کے سوا اُن کی زبان سے اور کوئی کلمہ نہ نکلتا۔(سیرت ابن ہشام صفحہ: ۲۳۵) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کلمہ توحید پڑھا تو آپ تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہوئے۔آپ نے تقریر میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کی طرف لوگوں کو بلا یا۔اس پر مشرکین مکہ حضرت ابو بکر پر ٹوٹ پڑے۔عتبہ بن ربیعہ آپ کے نزدیک آیا اور دور نگدار جوتیوں کے ساتھ مارنے لگ گیا۔وہ جوتیوں کے کناروں کی طرف سے آپ کے منہ پر مارتا تھا۔پھر حضرت ابو بکر کولٹا کر ان کے پیٹ پر گو دایہاں تک کہ آپ کا منہ اور ناک پہچانا نہ جاتا تھا۔بنو تمیم آئے اور وہ ان کو کپڑے میں ڈال کر گھر لے آئے۔لوگوں کو آپ کی موت میں کوئی شک نہ تھا۔آپ کے والد اور بنو تمیم آپ سے بات کرنے کی کوشش کرتے رہے۔دن کے آخری حصہ میں جب آپ کو ہوش آیا تو آپ نے سب سے پہلی بات یہ کی کہ پوچھا رسو کر یم ﷺ کا کیا حال ہے؟ اس پر وہ سارے ہمدرد آپ کو لعن طعن کر کے چھوڑ گئے کہ اس کے دل سے تو محمد کی محبت نہیں نکلتی۔(سبیل الھدی والرشاد جلد ۲ صفحہ ۳۱۹) پس دیکھئے زمانہ کی اقدار کیسی بگڑی ہیں اور کیسے دو متضاد وجود پیدا ہوئے۔ایک طرف اصرار تھا کہ ہم کلمہ پڑھیں گے اور اس کے لئے ہر قربانی دیں گے اور دوسری طرف اصرار تھا کہ ہم ہر قربانی لیں گے اور تمہیں کلمہ نہیں پڑھنے دیں گے۔اذان دینے سے بھی روکا گیا، اگر چہ شروع میں اذان کا طریق رائج نہیں تھا لیکن اس وقت تکبیر سے روکا جا تا تھا۔جب اذان کا طریق شروع ہوا تو اس وقت ایک روایت کے مطابق عروہ بن مسعود ثقفی حضرت رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اجازت چاہی کہ وہ اپنی قوم کی طرف لوٹ جائیں۔آنحضور ﷺ نے فرمایا میں ڈرتا ہوں کہ تمہاری قوم تمہیں قتل کر دے گی، تاہم آپ نے اجازت دے دی۔آپ قوم کی طرف