خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 80
خطابات طاہر جلد دوم 80 80 افتتاحی خ ب جلسه سالانه ۱۹۸۵ء لیکن ۸۴ء میں تو پھر نمایاں تیزی پیدا ہوئی اس کام میں ہمشن ہاؤس خریدنے میں بھی اور وصولی میں بھی چنانچہ اس وقت نیو یارک میں سکول کی ایک عمارت ہمیں مل گئی ہے، نہایت عمدہ اور سارے نیو یارک والے بڑے خوش ہیں، جو ملتے ہیں بتاتے ہیں بہت اچھی عمارت ہے۔اس پر بھی بڑی محنت کی ہے ہمارے احمدی دوستوں نے۔شکاگو میں ایک پانچ ایکڑ کا پلاٹ اور مکان اس پر تعمیر شدہ خدا کے فضل سے نہایت عمدہ جگہ مل گیا ہے۔لاس اینجلس میں ایک پونے پانچ ایکڑ کا پلاٹ بہت مہنگا علاقہ ہے وہ مگر بہت ہی اچھا پلاٹ لیول زمین ، بہت اچھے لوگ وہ بھی عمارتوں سمیت خدا کے فضل سے میسر آ گیا ہے،خرید لیا جا چکا ہے۔Detroit میں سات ایکڑ کا ایک پلاٹ خرید لیا گیا ہے اور اس پر بھی دو مکان بنے ہوئے تھے Insured تھے دونوں، ایک مکان ذرا بوسیدہ تھا اور بعض دوستوں نے مجھے بتایا اب آکے کہ ہم تو کہتے تھے مشورہ بھی دیا تھا جماعت کو کہ اس کو گراؤ اور دوبارہ بناؤ تو وہ اللہ کا فضل ایسا ہوا کہ اس کو آگ لگ گئی اور وہ ساری عمارت ختم ہو گئی ، جل کر خاک ہو گئی مل جائے گا انشاء اللہ تعالیٰ اور وہ بجائے اس کے کہ خود گرائیں اپنے خرچ پر، یہ اللہ کی تقدیر نے گرا بھی دیا اور اس کے لئے تعمیر کا بھی سامان مہیا کر دیا۔واشنگٹن ڈی سی میں بہت اچھی ایک جگہ ملی تھی یعنی چوالیس ایکڑ زمین لیکن افسوس ہے کہ وہ ہم نہیں رکھ سکے، ہم نے خود نہیں رکھی کیونکہ جب اس کے جائزے لئے گئے تو زیر زمین پانی کی کیفیت ( اور ) بعض دوسری رپورٹیں ایسی تھیں کہ خطرہ یہ تھا کہ ہمارے لئے مفید ثابت نہیں ہوگی۔دعا کریں اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اور جگہ دے دے۔اور ہندوستان میں دلی میں مسجد کی تعمیر ہونے والی ہے اس ضمن میں ہندوستان کا جو چوٹی کا نقشہ بنانے والاArchitect ، وہ بہت مشہور آدمی ہے وہ ہم سوچ رہے تھے کہ اس کا ڈیزائن کس سے بنوائیں تو ہمارے آفتاب خان صاحب وہاں گئے وہ ان کا پرانا کلاس فیلو نکلا اور اس نے گھر بھی بلا یا دعوت بھی کی اور درخواست بھی کی کہ میں اعزاز سمجھوں گا اگر مجھے موقع ملے کہ میں یہ نقشہ بناؤں کیونکہ اس سے پہلے بعض اسلامی ممالک کی مساجد کے میں نے نقشے بنائے ہیں اور بہت ہی مقبول ہوئے ہیں۔تو نقشے والا بھی ہندوستان ہی سے مل گیا ہمیں ، آفتاب صاحب نے لکھا تو ہے اس کو ، پتا نہیں کب وہاں سے جواب آئے۔