خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 56
خطابات طاہر جلد دوم 56 56 افتتاحی خطاب جلسہ سالانه ۱۹۸۵ء تھا سارے بکرے کس طرح ہو گئے تو میں نے احتیاطاً بکرے پڑھا، آپ نے پھر بگرے بنا دیئے۔مگر خیر البہی جماعتوں کے ساتھ یہ نام لگے ہوتے ہیں میسیج کی بھی تو بھیٹر میں ہی تھیں مگر ہم نے ان بکروں کو شیر بنانا ہے یہ یادرکھیں تو یہ سارے کے سارے بگرے اور سارے جبل یعنی پہاڑ خدا کے فضل سے احمدی ہو گئے ہیں، یہ سارے دونوں گاؤں احمدی ہو گئے ہیں۔کینیا کے مبلغ بتاتے ہیں کہ مادو مالو میں پبلک لیکچر کا انتظام تھا اور سارا گاؤں اس میں شریک ہوا، چار گاؤں کے افراد وہاں اکٹھے ہوئے تھے اور اسی لیکچر کے معابعد 407 افراد بیعت کر کے سلسلہ میں داخل ہو گئے۔کینیا ہی سے ایک اور اطلاع یہ ہے کہ دو ماہ کے عرصے میں اس علاقے میں اب 582 بیعتیں ہو چکی ہیں اور سکول کے اساتذہ بھی شامل ہیں ،ایک ہیڈ ماسٹر بھی شامل ہے اور دو مساجد بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت کو عطا ہوگئی ہیں۔ریپبلک آف ببین میں تین گاؤں میں تین مساجد اور 114 افراد جماعت کو مل گئے ہیں خدا تعالیٰ کے فضل سے، اسی طرح افریقہ کے دوسرے ممالک سے بھی بڑی خوش کن اطلاعات ہیں۔میں نے چند نمونے صرف آپ کو سنائے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اب جوق در جوق، فوج در فوج احمدیت میں شامل ہونے کے دن آ رہے ہیں اور ہندوستان میں بھی یہی کیفیت ہے۔حیرت انگیز طور پر پچھلے دو تین سال کے اندر ہندوستان میں جماعت نے ترقی کی ہے بلکہ بلاشبہ کوئی مبالغہ اس میں نہیں ہے کہ تقسیم کے بعد سے سن 83ء تک جتنی بیعتیں سارے ہندوستان میں ہوئی ہیں اس سے زیادہ بیعتیں اب خدا کے فضل سے بعض علاقوں میں ہوگئی ہیں۔چنانچہ آندھرا پردیش میں ہمارے معلم لکھتے ہیں کہ مجھے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ فرشتوں کی افواج کا نزول ہو رہا ہے ، ایک مہینہ میں چھور گاؤں کے 125 افراد نے احمدیت قبول کی ہے۔پھر لکھتے ہیں وہاں کی رپورٹ ہے کہ عظیم الشان رو چل پڑی ہے يَدْخُلُونَ فِي دِینِ اللهِ أَفْوَاجًا کا نظارہ دیکھ رہے ہیں، روح اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہے۔اللہ کے فضل سے ۱۹۸۳ء میں تو ایک بھر پور تحریک پیدا ہوئی تھی۔یعنی جلسے پر ان کو میں نے کہا تھا کہ تم نے توجہ کرنی ہے اور جا کے اب تبلیغ کی طرف ساری توجہ مبذول کر دو۔چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ ۸۴ء میں ایک پر شوکت تحریک میں تبدیل ہوگئی ہے اور شدید مخالفت کے باوجود یہ نہیں کہ علماء کو پتا نہیں۔تمام