خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 523
خطابات طاہر جلد اول 523 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 2002ء اور زمین اپنے رب کے نور سے روشن ہو جائے گی۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے اور تمہاری آنکھوں میں عجیب“۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد نمبر ۳ صفحہ ۵۶۶) س و الهام ۱۸۹۳ء بَشْرَ نِي رَبِّي وَ قَالَ: انِّي سَأَوْتِيكَ بَرَكَةً وَأُجْلِيَ آنُوارَهَا حَتَّى يَتَبَرَّكَ بِثِيَابِكَ الْمُلُوكُ وَالسَّلاطِينُ۔میں تجھے برکت دوں گا اور اس کے انوار کوروشن کروں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔( تذکرہ:۱۹۴) ۱۸۸۲ء کے عربی الہام سے کچھ حصے کا ترجمہ : خدا عرش پر سے تیری تعریف کر رہا ہے ہم تیری تعریف کرتے ہیں اور تیرے پر درود بھیجتے ہیں۔لوگ چاہتے ہیں کہ خدا کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں مگر خدا اس نور کو نہیں چھوڑے گا جب تک پورا نہ کر لے اگر چہ منکر کراہت کریں۔ہم عنقریب ان کے دلوں میں رعب ڈالیں گے جب خدا کی مدد اور فتح آئے گی اور زمانہ ہماری طرف رجوع کرے گا تو کہا جائے گا کہ کیا یہ سچ نہ تھا جیسا کہ تم نے سمجھا۔( تذکرہ صفحہ ۳۷، ۳۸) ۱۹۰۰ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کوعربی میں ایک اور الہام ہوا: ” یہ تیرے رب کی رحمت سے ہے۔وہ اپنی نعمت کو تجھ پر پورا کرے گا تا کہ مومنوں کے لئے نشان ہو۔اللہ تعالیٰ کئی معرکوں میں تیری نصرت کرے گا اور اللہ اپنا نور پورا کرے گا اگر چہ کافر نا پسند کریں اور وہ مکر کرتے ہیں اللہ انہیں ان کے مکر کی سزا دے گا اور اللہ سب سے بہتر تد بیر کرنے والا ہے۔دیکھ اللہ تعالیٰ کی رحمت تجھ سے قریب ہے اس کی مد تجھ سے قریب ہے۔( تذکرہ صفہ ۳۰۱) 1900ء کا الہام ہے انِّی حَاشِرِ كُلَّ قَوْمٍ يَّاتُونَكَ جُنُبًا وَإِنِّي أَنَرْتُ مَكَانَكَ تَنْزِيلٌ مِّنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ۔میں ہر یک قوم میں سے گروہ کے گروہ تیری طرف بھیجوں گا۔میں نے تیرے مکان کو روشن کیا۔یہ اس خدا کا کلام ہے جو عزیز اور رحیم ہے۔(تذکرہ صفحہ : ۳۲۰)