خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 514 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 514

خطابات طاہر جلد دوم 514 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 2001ء ہوئی تلوار تیرے آگے ہے“۔(تذکرہ صفحہ ۵۳۶) اب یہ تو ملوکیت کے متعلق آیات اور الہامات کا میں ذکر کر رہا تھا۔اب میں کچھ مہمانوں کو نصیحت کرنا چاہتا ہوں جودُور دُور سے یہاں آئے ہیں۔پہلی تو یہ ہے کہ اپنا وقت ضائع نہ کریں اور جہاں تک ہو سکے ذکر اللہ کیا کر یں۔باتیں کرنا بھی ایک مجبوری ہے لیکن باتوں سے خیال پھر ذکر اللہ کی طرف جائے اور مسجد میں بیٹھ کر تو ذکر الہی بہت ضروری ہے۔نمازوں کا التزام۔نمازوں کے علاوہ وقت میں خاموشی سے تسبیحات میں مصروف رہیں۔اب جو پہریدار ہوں اس وقت تو نماز میں شامل نہیں ہو سکتے لیکن بہتر یہی ہے کہ ان کے لئے باجماعت نماز کا انتظام کیا جائے اور انہی میں جو اس وقت نماز نہیں پڑھ سکتے کوئی ان کا امیر بن جائے اور ان کا امام بن کر ان کی امامت کروائے۔تقاریر بڑی محنت سے تیار کی جاتی ہیں صرف میری نہیں بلکہ سلسلہ کے دوسرے علماء بھی انشاء اللہ آپ کے سامنے تقریریں کریں گے تو آپ پوری توجہ سے اس طرح جس طرح میری تقریر سنتے ہیں ان کی تقریریں بھی سنیں اور ان کی محنت کو ضائع نہ جانے دیں۔سلام کو رواج دیں۔افسو السَّلام “ رسول اللہ ﷺ کا حکم ہے، آتے جاتے ، چلتے پھرتے سلام کیا کریں۔ہمارے حافظ محمد رمضان صاحب ہوتے تھے قادیان میں، ان کو بہت شوق تھا پہلے سلام کرنے کا۔دُور سے بعض دفعہ کسی بکری کسی بھینس کی چاپ کی آواز آئے تو فوراً السلام علیکم کہہ دیا کرتے تھے۔تو بعد میں کسی نے ان سے پوچھا کہ حافظ صاحب یہ کیا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا مجھے پتہ نہیں، مجھے اتنا پتا ہے کہ جو پہلے سلام کرتا ہے اس کو فائدہ ہوتا ہے۔تو مجھے پتہ نہیں لگتا ، دیکھ نہیں سکتا کہ جانور ہے یا آدمی ہے چاپ سنتا ہوں تو میں سلام پہلے کر دیتا ہوں۔بڑوں سے ادب سے پیش آئیں اور چھوٹوں کا خیال رکھیں۔عورتیں پردہ کا خیال رکھیں۔کھانا ضائع نہ کریں بلکہ کسی بھی قابل استعمال چیز کو ضائع نہ ہونے دیں۔اپنے برتن میں اتنا ہی ڈالیں جتنا آپ کھا سکتے ہیں اور برتن خالی کر دیا کریں۔جو برتنوں میں سے کھانا اٹھا کر پھینکا جاتا ہے یہ ایک بہت ہی بیہودہ رواج ہے۔آپ نے جہازوں میں سفر کر کے دیکھا ہوگا کتنا کھانا وہاں