خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 513
خطابات طاہر جلد دوم 513 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 2001ء پس یہ ملک عظیم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعوت کا عام ہونا ہے جو مشرق اور مغرب میں پھیل رہی ہے اور اس کے عظیم الشان نظارے انشاء اللہ اس جلسہ کے آخر پر آپ دیکھیں گے۔ایک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا الہام آریوں کا بادشاہ بھی ہے۔آپ تحریر فرماتے ہیں۔جیسا کہ آریہ قوم کے لوگ کرشن کے ظہور کا ان دنوں انتظار کرتے ہیں وہ کرشن میں ہی ہوں اور یہ دعویٰ صرف میری طرف سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے بار بار میرے پر ظاہر کیا ہے کہ جو کرشن آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا تھا وہ تو ہی ہے آریوں کا بادشاہ“۔( تتمہ حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۵۲۲٬۵۲۱) ۱۱ جون ۱۹۰۶ ء کا ایک الہام ہے۔مقبولوں میں قبولیت کے نمونے اور علامتیں ہوتی ہیں اور ان کی تعظیم ملوک اور ذوی الجبروت کرتے ہیں۔( اب کوئی کہہ سکتا ہے کہ ہم مقبول الہی ہیں اور بڑے بڑے دعوے کرنے والے موجود ہیں لیکن ان کی کوئی نشانی ساتھ نہیں ہوتی۔اللہ تعالیٰ جس کو ذوالجبروت قرار دے، بڑے بڑے بادشاہ اس کے سامنے سر جھکاتے ہیں اور اس کی غلامی میں آنا اپنا فخر محسوس کرتے ہیں پس ) ” مقبولوں میں قبولیت کے نمونے اور علامتیں ہوتی ہیں اور ان کی تعظیم ملوک اور ذوی الجبروت کرتے ہیں“۔یہاں جرمنی میں بھی میرے علم کے مطابق ایک بیچارہ دماغی فتور میں مبتلا شخص ہے جو اپنے آپ کو زمانے کا مصلح سمجھتا ہے اور چار بھی اس کے مرید نہیں ہیں۔دو چار ایجنٹ ہوں گے شاید با تیں کرنے والے لیکن ساری جرمنی کی جماعت گواہ ہے کہ ایک کوڑی کی بھی اس کی پرواہ کسی کو نہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس دعوی کے ثبوت میں یہاں وہ بادشاہ خدا کے فضل سے آئے ہوئے ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے اپنی گردن اطاعت جھکا رکھی ہے۔ان پر کوئی غالب نہیں ہو سکتا ہے۔اور سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں۔فرشتوں کی کھینچی