خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 492
خطابات طاہر جلد دوم 492 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 2000ء خاص اپنا راز دار بنایا۔سب انسانوں سے زیادہ بہادر ہے اور اگر ایمان ثریا پر ہوتا تو وہیں سے وہ لے آتا۔خدا اُس کے بُرہان کو روشن کرے گا۔اے احمد رحمت تیرے لبوں پر جاری کی گئی۔تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔خدا تیرے ذکر کو اونچا کرے گا اور دنیا اور آخرت میں اپنی نعمت تیرے پر پوری کرے گا۔دو اے میرے احمد ! تُو میری مراد ہے اور میرے ساتھ ہے۔میں نے تیرا درخت اپنے ہاتھ سے لگایا اور ہم نے تیری طرف نظر کی اور کہا کہ اے آگ جو فتنہ کی آگ قوم کی طرف سے ہے اس ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی ہو جا۔۔۔“۔۔۔تو مجھ سے ایسا ہے جیسے میری تو حید اور تفرید۔پس وقت آ گیا ہے کہ تجھ کو لوگوں میں شہرت دی جائے گی۔اب تو تیرے پر وہ وقت ہے کہ کوئی بھی تجھ کو نہیں پہچانتا اور نزدیک ہے کہ تو تمام لوگوں میں شہرت پا جائے گا۔۔۔اور یاد کر وہ آنے والا زمانہ جبکہ ایک شخص تیرے پر تکفیر کا فتویٰ لگائے گا اور اپنے کسی ایسے شخص کو جس کے فتوی کا دنیا پر عام اثر ہوتا ہو کہے گا کہ اے ہامان میرے لئے اس فتنہ کی آگ بھڑ کا تا میں اُس شخص کے خدا پر اطلاع پاؤں اور میں خیال کرتا ہوں کہ یہ جھوٹا ہے۔ہلاک ہو گئے دونوں ہاتھ ابی لہب کے اور وہ بھی ہلاک ہو گیا۔( یعنی جس نے یہ فتویٰ لکھا یا لکھوایا ) اس کو نہیں چاہئے تھا کہ اس معاملہ میں دخل دیتا مگر ڈرتے ڈرتے۔۔۔اس فتویٰ تکفیر سے جو کچھ تکلیف تجھے پہنچے گی۔وہ تو خدا کی طرف سے ہے۔یہ ایک فتنہ ہو گا۔پس صبر کر وجیسا کہ اولوا العزم نبیوں نے صبر کیا اور آخر خدا منکرین کے مکر کوئست کر دے گا۔سمجھ اور یا درکھ کہ یہ فتنہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوگا تا وہ تجھ سے بہت سا پیار کرے۔یہ اس خدا کا پیار ہے جو غالب اور بزرگ ہے اور اس مصیبت کے صلہ میں ایک ایسی بخشش ہے جو کبھی منقطع نہیں ہوگی“۔( تذکر صفحہ: ۲۹۸ تا ۳۰۰) پھر یہ الہام ہے۔